'ہدف صرف شاہراہیں بند کرنا نہیں، ہم اس سے بھی آگے بڑھیں گے'

14 نومبر 2019

ای میل

ہم نے اس حکومت کی جڑیں کاٹ دی ہیں اور تنا گرانے کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، سربراہ جے یو آئی (ف) — فائل فوٹو / ڈان نیوز
ہم نے اس حکومت کی جڑیں کاٹ دی ہیں اور تنا گرانے کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، سربراہ جے یو آئی (ف) — فائل فوٹو / ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہمارا ہدف صرف شاہراہیں بند کرنا نہیں ہے، ہم اس سے بھی آگے بڑھیں گے اور بڑھتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ ہم اس ناجائز حکومت کا خاتمہ نہ کر دیں۔

نجی چینل 'جیو نیوز' کے پروگرام 'کیپیٹل ٹاک' میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ ہمارے لیے بنیادی ہدف ہے، ہم نے یہ ہدف متعارف کرادیا ہے اور اس حوالے سے کافی پیشرفت ہوئی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم کے استعفے کی تحریک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ ناجائز حکومت اور ناجائز حکمران قوم کے سر سے اتریں گے اور قوم کو اس کی امانت واپس لوٹانے پر مجبور ہوں گے۔'

پلان 'بی' کے تحت ملک بھر میں قومی شاہراہیں بند کرنے اور اس سے عوام کو مشکلات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'ہم نے شہروں کے اندر احتجاج نہیں کیا تاکہ لوگ اپنے معمولات زندگی برقرار رکھیں لیکن شاہراہوں کی طرف جانے پر ہمیں حکمرانوں نے مجبور کیا ہے، اگر وہ ہماری اسلام آباد میں موجودگی کے دوران ہی استعفیٰ دے دیتے تو شاید اس کی نوبت نہ آتی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا ہدف صرف شاہراہیں بند کرنا نہیں ہے، ہم اس سے بھی آگے بڑھیں گے اور بڑھتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ ہم اس ناجائز حکومت کا خاتمہ نہ کر دیں، ہمارے پہلے کیے گئے ملین مارچ سے قوم میں بیداری آئی اور پورے ملک سے عوام اسلام آباد میں ہمارے شریک سفر بنے، اب ملک کے عوام سڑکوں پر آئیں گے، مظاہرے ہوں گے، اس سے ملک کی سیاست کو نیا رُخ ملے گا اور اس میں قوت پیدا ہو گی۔'

مزید پڑھیں: کسی کا باپ ہم سے اس حکومت کو جائز نہیں منوا سکتا، مولانا فضل الرحمٰن

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے اس حکومت کی جڑیں کاٹ دی ہیں اور تنا گرانے کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، امید ہے تحریک زیادہ طویل عرصہ نہیں چلے گی اور ہم اسی سال کے باقی ایام میں اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے۔'

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 'باقی اپوزیشن جماعتیں بھی اس حکومت کا خاتمہ چاہتی ہیں، اسمبلوں کی تحلیل اور نئے شفاف انتخابات چاہتی ہیں، جبکہ ہمیں امید ہے کہ آزادی مارچ میں جس طرح ان جماعتوں کا تعاون حاصل رہا مظاہروں میں بھی حاصل ہوگا۔'

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی سے گفتگو کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد کے پرامن اجتماع کو سراہا، ان سے اس کے علاوہ کسی امور پر بات نہیں ہوئی۔'

یہ بھی پڑھیں: ہم نےحکومت کا غرور خاک میں ملا دیا، مولانا فضل الرحمٰن

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صحت اور ان کے بیرون جانے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے لیے جانے کے لیے حکومت نے جو شرائط رکھیں ان سے بہت تکلیف ہوئی، حکومت سے انتہائی بداخلاقی اور کم ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے، حکومت کی اس سے بڑھ کر تنگ نظری اور بلیک میلنگ نہیں ہو سکتی تھی۔'

یاد رہے کہ گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد کے پشاور موڑ پر کئی روز سے جاری دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان 'بی' کے تحت نئے محاذ پر جانے کا اعلان کردیا تھا۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دو ہفتوں سے قومی سطح کا اجتماع تسلسل سے ہوا، اب نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ہمارے جاں نثار اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہماری قوت یہاں جمع ہے اور وہاں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں، نئے محاذ پر ہم سڑکیں بلاک کرنے والوں کے ساتھ ہوں گے، ہم پرامن ہیں اور ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا لہٰذا ادارے بھی اس آزادی مارچ کا احترام کریں جبکہ اپنے کارکنان کی طرح پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھی عزیز ہیں۔