میڈیکل بورڈ کی آصف زرداری کو ہسپتال میں رکھنے کی تجویز

اپ ڈیٹ 15 نومبر 2019

ای میل

میڈیکل بورڈ کی تجویز پر مریض کو طویل مدت کے لیے ہسپتال میں رکھا جاسکتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
میڈیکل بورڈ کی تجویز پر مریض کو طویل مدت کے لیے ہسپتال میں رکھا جاسکتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے میڈیکل بورڈ کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو علاج کے لیے ہسپتال سے کہیں اور منتقل نہ کرنے کی تجویز دے دی گئی۔

علاوہ ازیں پمز میڈیکل بورڈ کی تجویز کے پیش نظر ہسپتال میں سابق صدر کا قیام طویل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا۔

پمز کے میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے میڈیکل بورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’آصف علی زرداری کو چکر آنے، عارضہ قلب اور مثانے کی تکلیف کے باعث کہیں اور منتقل نہیں کیا جانا چاہیے'۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 12 نومبر کو سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری کو خرابی صحت کی بنا پر احتساب عدالت بھی نہیں لے جایا گیا تھا۔

ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کی تجویز پر مریض کو طویل مدت کے لیے ہسپتال میں رکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری طبی معائنے کیلئے ہسپتال منتقل

خیال رہے کہ آصف زرداری کو کمر درد، کمزوری، بے چینی سمیت صحت کے مختلف مسائل کی بنا پر 22 اکتوبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے پمز منتقل کر کے شعبہ قلب کے وی آئی پی وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔

جہاں نیورو لوجسٹ یا ماہر امراضِ اعصاب پروفیسر عامر، طبی ماہر ڈاکٹر شاہ جی اور ماہر امراض قلب پروفیسر نعیم نے ان کا طبی معائنہ کیا تھا تاہم مریض کو مثانے کے غدود میں جلن کی شکایت کے باعث یورولوجسٹ کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کرلیا گیا تھا۔

ان کے پلیٹلیٹس ایک لاکھ 20 ہزار تک کم ہوگئے تھے جو اس صورت میں کوئی غیر معمولی بات نہیں کہ جب مریض متعدد ادویات لے رہا ہو۔

گزشتہ ہفتے انہیں ہولٹر مانیٹر بھی لگایا گیا تھا، ہولٹر مانیٹر بیٹری سے چلنے والا ایسا آلہ ہے جو مریض کے دل کی حرکات و سکنات ریکارڈ کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کو علاج کیلئے کراچی منتقل کرنے کی درخواست مسترد

دوسری جانب پی پی پی نے الزام عائد کیا تھا کہ میڈیکل بورڈ آصف زرداری کی میڈیکل رپورٹس اہلِ خانہ کو فراہم نہیں کررہا اور مطالبہ کیا تھا کہ خاندانی معالج کو بھی بورڈ میں شامل کیا جائے۔

اس ضمن میں سابق صدر کے ترجمان عامر فدا پراچہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’حکام کا یہ اقدام بہت تشویشناک ہے، مسئلہ صرف آصف زرداری کو منتقل کرنے کا نہیں بلکہ انہیں صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کا بھی ہے‘۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پی پی پی چیئرمین کے اہلِ خانہ اور پارٹی کوئی رعایت نہیں مانگ رہے صرف ان کے لیے بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔

دوسری جانب پمز کے ایک ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ میڈیکل بورڈ کے اراکین کی قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری کے اہلِ خانہ متعدد مرتبہ ان سے ملاقات کرچکے ہیں لیکن مریض نے علاج کے حوالے سے ان سے کوئی شکایت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری کا مقام جیل ہے جہاں وہ موجود ہیں، وزیر داخلہ

واضح رہے کہ 10 جون کو قومی احتساب بیور (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہونے پر گرفتار کیا تھا، بعد ازاں 16 اگست کو عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔

یہ کیس بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ اسکینڈل سے متعلق ہے، جس کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کر رہی ہے، اس کیس میں آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین حسین لوائی، اومنی گروپ کے سی ای او انور مجید، ان کے بیٹوں اور کئی بڑے نام نامزد ہیں۔

تاہم ابتدائی طور پر یہ کیس وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے پاس رہنے کے بعد عدالتی احکامات پر نیب کے پاس آگیا تھا۔