قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد، حکومت نے آرڈیننسز واپس لے لیے

اپ ڈیٹ 15 نومبر 2019

ای میل

حکومت نے متعدد آرڈیننس واپس کمیٹیوں میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا —فوٹو: بشکریہ فیس بک
حکومت نے متعدد آرڈیننس واپس کمیٹیوں میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا —فوٹو: بشکریہ فیس بک

قومی اسمبلی صورتحال اس وقت حیران کن ہوگئی جب آج اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر آمادگی کا اظہار کیا اور حکومت نے پارلیمنٹ کو بائے پاس کرکے منظور کرنے والے متعدد آرڈیننس واپس کمیٹیوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعت کے اراکین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا اعلان کیا۔

اس ضمن میں تازہ پیش رفت کے مطابق مسلم لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد متفقہ طور پرواپس لینےپر تیار ہے۔

مزیدپڑھیں: قومی ادارے کے سربراہ پر الزام: سینیٹر حاصل بزنجو عدالت طلب

دوسری جانب حکومت نے متعدد آرڈیننس واپس کمیٹیوں میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن نے 7 نومبر کی قومی اسمبلی کی کارروائی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، 7 نومبر کو حکومت نے 9 آرڈیننس اور 2 منظور کروائے تھے۔

جس کے بعد مسلم لیگ (ن) انتقاماً مرتضیٰ جاوید عباسی اور محسن شاہنواز رانجھا کے ذریعے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے تھے۔

خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ جو آج ہوا ہے اگر اس روز ہوجاتا تو ہمیں اس تلخی سے نہ گزرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم احتجاجاً ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تبدیلی کی تحاریک ناکام

علاوہ ازیں خواجہ آصف نے کہا کہ متعلقہ کمیٹیاں اب ان بلز کو دیکھیں گی اور بلز متفقہ طور پر منظور ہوں گے یا مسترد ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خوش اسلوبی سے تمام قوانین واپس لیے جارہے ہیں اور اب کمیٹی ان امور کو دیکھے گی۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ 'اس روز تمام قوانین جو بنائےگئے تھے وہ واپس ہوگئے'۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اعظم سواتی اور نوید قمر نے بلز سے متعلق تفصیل دی تھیں۔

منظور شدہ بل واپس لے کر دوبارہ پیش کیے جائیں گے، اعظم سواتی

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ منظور شدہ بل واپس لے کر دوبارہ پیش کیے جائیں گے۔

اعظم سواتی نے کہا کہ 7 نومبر کو پیش کردہ پاکستان میڈیکل کمیشن 2019 پر آئندہ اجلاس میں بحث ہو گی اور کوشش ہو گی کہ اتفاق رائے پیدا کیا جا ئے۔

انہوں نے کہا کہ 7 نومبر کو پیش کردہ آرڈینینسز اور منظور کردہ بلوں پر بھی دوبارہ اتفاق رائے کیا جائے گا۔

اعظم سواتی نے واضح کیا کہ بے نامی ٹرانزیکشن آرڈینینس منظوری سے پہلے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔

تحریک عدم اعتماد کی واپسی خوش آئند ہے، اسد عمر

قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبل قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا اعلان خوش آئند ہے۔

انہوں نے مزید کہا خوشی ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم سےحل ہو گیا تاہم جس چیز کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں اس کو پورا کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'حکومت 5سال مکمل کرے گی'۔

واضح رہے کہ 7 نومبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت ریکارڈ قانون سازی کروانے میں کامیاب ہوگئی تھی اور ایوان زیریں میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 11 بلز منظور کیے گئے تھے۔

میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکامی سے دوچار ہوگی، قاسم سوری

چند روز قبل ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا تھا کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا وہی حال ہوگا جس طرح سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف قرارداد کا ہوا تھا۔

کوئٹہ میں نجی اسکول کے پروگرام میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قاسم سوری نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں احتجاج شرکا کا آئینی حق ہے اور حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس 9 جولائی کو پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کے جاوید عباسی کی جانب سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں لائی گئی۔

مزیدپڑھیں: آئین اور وفاق سے کھیلا گیا کھیل، جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں‘

اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کی حمایت میں 64 اراکین ایوان میں کھڑے ہوئے، تاہم خفیہ رائے شماری میں صرف 50 ووٹ نکلے۔

ایوان میں مطلوبہ ہدف تک ووٹ حاصل نہ ہونے پر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کردیا گیا جس کے ساتھ ہی چیئرمین سینیٹ اپنے عہدے پر برقرار رہے۔

جبکہ اپوزیشن نے نیشنل پارٹی (این پی) کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کو نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔