اپوزیشن کو قانون سازی میں شامل کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2019

ای میل

اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی یقین دہانی کروائی تھی — فائل فوٹو: اے پی پی
اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی یقین دہانی کروائی تھی — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: حکومت نے پارلیمنٹ سے متعلق امور دیکھنے، اپوزیشن کو قانون سازی میں شامل کرنے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائیوں کو آسان بنانے کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کو مزید موثر بنانے کے مقصد کے تحت وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز پر مشتمل ہے۔

اس حوالے سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے بتایا وزیراعظم عمران خان نے پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 2 روز قبل قومی اسمبلی میں 'لو اور دو' کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی، جس میں حکومت نے حال ہی میں نافذ کیے گئے 11 صدارتی آرڈیننس واپس لے لیے، جس پر اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لی تھی۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد، حکومت نے آرڈیننسز واپس لے لیے

قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستوں کے درمیان غیر معمولی 'جنگ بندی' دکھائی دی اور ماضی کے برعکس دونوں کے ارکان نے تلخ الفاظ کے تبادلے سے گریز کیا۔

خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والے اجلاس میں 7 نومبر کو قومی اسمبلی میں منظور کیے گئے 11 آرڈیننسز کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا تھا۔

اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس میں حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ اراکین اور متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو تعمیری بحث کا حق دیے بغیر آرڈیننسز بہت جلد بازی میں منظور کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 11 بل منظور

اپوزیشن نے حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لیں گے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ واپس لیے گئے کچھ آرڈیننسز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جائیں گے اور کچھ پر ایوان میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن نے 7 نومبر کی قومی اسمبلی کی کارروائی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، 7 نومبر کو حکومت نے 9 آرڈیننس اور 2 منظور کروائے تھے۔

جس کے بعد مسلم لیگ (ن) انتقاماً مرتضیٰ جاوید عباسی اور محسن شاہنواز رانجھا کے ذریعے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے تھے۔

خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ جو آج ہوا ہے اگر اس روز ہوجاتا تو ہمیں اس تلخی سے نہ گزرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم احتجاجاً ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تھا۔