ای میل

متحدہ عرب امارات میں کتنے ارب پتی، کتنے کروڑ پتی رہتے ہیں؟

پرتعیش زندگی کے مواقع کی وجہ سے بھی لوگ یو اے ای منتقل ہو رہے ہیں، رپورٹ—فوٹو: میڈیم ڈاٹ کام
پرتعیش زندگی کے مواقع کی وجہ سے بھی لوگ یو اے ای منتقل ہو رہے ہیں، رپورٹ—فوٹو: میڈیم ڈاٹ کام

ویسے تو امریکا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں دنیا کے سب سے زیادہ ارب پتی افراد رہتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ وہاں کوئی نہ کوئی شخص ارب پتی بن ہی جاتا ہے۔

ارب پتی افراد کے آبادی میں دوسرے نمبر پر آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین کو سمجھا جاتا ہے، جہاں اندازہ ہر ہفتے ایک شخص ارب پتی بنتا ہے۔

جہاں دنیا میں ہر ہفتے یا ہر ماہ ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں کچھ افراد ارب پتی سے کروڑ پتی بھی بنتے ہیں اور بعض بیچارے تو لکھ پتی بھی بن جاتے ہیں۔

امریکا، چین، برطانیہ اور یورپ کے بعد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرزمین کو امیر افراد کی سرزمین کہا جاتا ہے، جہاں ارب پتی سے لے کر لکھ پتی افراد کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔

دبئی سمیت دیگر ریاستوں میں کاروبار کے مواقع کی وجہ سے بھی لوگ یہاں منتقل ہوتے ہیں—فوٹو: گلف نیوز
دبئی سمیت دیگر ریاستوں میں کاروبار کے مواقع کی وجہ سے بھی لوگ یہاں منتقل ہوتے ہیں—فوٹو: گلف نیوز

عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے مطابق یو اے ای دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے لکھ اور کروڑ پتی افراد ہجرت کرکے آتے ہیں۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں مالیاتی اداروں اور عالمی بینکوں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یو اے ای میں نومبر 2019 کے آغاز تک 88 ہزار 700 کروڑ پتی افراد رہ رہے تھے۔

یو اے ای میں کروڑ پتی اور لکھ پتی افراد کی تعداد میں 2016 کے مقابلے 8 ہزار کا اضافہ ہوا اور صرف محض گزشتہ ایک سال میں دنیا بھر سے 5 ہزار کروڑ پتی افراد یو اے ای منتقل ہوئے۔

مذکورہ 88 ہزار 700 افراد میں سے 80 ہزار افراد ایسے ہیں جن کی مجموعی دولت 10 لاکھ امریکی ڈالر یا اس سے کم ہے یعنی ان کی دولت پاکستانی تقریبا 16 کروڑ روپے تک ہے۔

یو اے ای میں رہنے والے 3 ہزار 820 افراد ایسے ہیں جن کی دولت 10 لاکھ امریکی ڈالر زائد ہے اور وہ باقی 80 ہزار کروڑ پتی افراد سے زیادہ امیر ہیں۔

یو اے میں سیاحت کے مواقع بھی موجود ہیں—فوٹو: فیس بک
یو اے میں سیاحت کے مواقع بھی موجود ہیں—فوٹو: فیس بک

اسی طرح 1660 افراد ایسے ہیں جن کی دولت 30 لاکھ امریکی ڈالر یا اس سے زائد ہے یعنی ان کے پاس پاکستانی 50 کروڑ روپے کی دولت ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یو اے ای میں رہنے والے کروڑ پتی افراد کی تعداد خطے کے دیگر ممالک یعنی سعودی عرب، قطر اور عمان سے زائد ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یو اے ای میں انتہائی کم جرائم، کم ٹیکس، شفاف نظام، انتہائی اعلیٰ درجے کی دستیاب صحت کی سہولیات، آرائش زندگی کے بھرپور مواقع اور اچھی تعلیم کی وجہ سے دنیا بھر کے کروڑ پتی افراد بہت بڑی تعداد میں منتقل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ان کروڑ پتی افراد کی مجموعی دولت کا تخمینہ لگایا جائے تو یہ وہ 925 ارب ڈالر بنتی ہے جو پاکستانی ایک ہزار کھرب روپے سے زائد بنتے ہیں اور اگر اسی رقم کو یو اے ای کی پوری آبادی میں تقسیم کیا جائے تو ہر شخص کے حصے میں 99 ہزار امریکی ڈالر آئیں گے۔

یعنی یو اے ای کا ہر شہری پاکستانی ایک کروڑ روپے سے زائد کا مالک بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2018 تک یو اے ای میں 7 کھرب پتی افراد رہتے تھے جو دنیا کے 2200 کھرب پتی افراد کی فہرست میں بھی شامل تھے۔

سب سے زیادہ امیر لوگ دبئی میں رہتےہیں—فوٹو: گلف نیوز
سب سے زیادہ امیر لوگ دبئی میں رہتےہیں—فوٹو: گلف نیوز