نواز شریف علاج کیلئے ایئر ایمبولینس میں لندن روانہ

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2019

ای میل

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس میں سوار ہو کر لاہور ایئر پورٹ کے حج ٹرمینل سے اپنے بھائی شہباز شریف، ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ لندن روانہ ہوگئے۔

ان کے ایئر پورٹ پہنچنے سے قبل مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، ترجمان مریم اورنگزیب، سیکریٹری احسن اقبال اور دیگر رہنما پہلے سے ہی ایئر پورٹ پر موجود تھے۔

نواز شریف شہباز شریف کے ہمراہ لندن روانہ ہوئے—تصویر: ڈان نیوز
نواز شریف شہباز شریف کے ہمراہ لندن روانہ ہوئے—تصویر: ڈان نیوز

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ضمانت کی مدت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے علاج کے لیے ایک مرتبہ بیرونِ ملک جانے کی اجازت ملنے کے بعد آج بیرونِ ملک علاج کے لیے روانہ ہوئے۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے قائد کو لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس 9 بجے کے قریب لاہور ایئر پورٹ پہنچی، ایئر ایمبولینس میں کل 5 افراد روانہ ہوئے جن میں نواز شریف، شہباز شریف، ڈاکٹر عدنان، عابد اللہ جان اور محمد عرفان شامل ہیں۔

نواز شریف کے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر عدنان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ نواز شریف برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے لیے بذریعہ دوحہ قطر ایئرویز کی ایئر بس A-319-133LR / A7-MED کے ذریعے 10 بجے روانہ ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاہور ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی ایئر ایمبولینس گرین ویچ مین ٹائم کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے (پاکستانی رات ساڑھے 11 بجے) ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچے گی۔

نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کے موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد جاتی عمرا پہنچی تھی۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف،شہباز شریف،ڈاکٹر عدنان،محمد عرفان،عابد اللہ جان کے پاسپورٹ امیگریشن حکام کے حوالے جبکہ نواز شریف کی میڈیکل فائل قطر ائیر ویز کے ڈاکٹرز کے حوالے کی گئی۔

روانگی سے قبل ائیر ایمبولینس کے ڈاکٹرز نے نواز شریف کے تمام تر ضروری طبی ٹیسٹس کیے جس کے بعد پرواز کو اڑان بھرنے کی اجازت دی۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد گزشتہ روز وزارت داخلہ نے ان کی بیرونِ ملک روانگی کے لیے گرین سگنل دیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں نواز شریف کو ایک مرتبہ کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی جبکہ ان کا نام بدستور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں موجود رہے گا، اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے تحت ’عبوری انتظامات‘ کی حیثیت سے لیا گیا۔

شہباز شریف اور ڈاکٹر عدنان نواز شریف کے ہمراہ

بیرونِ ملک روانگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا کہ محمد نوازشریف آج صبح 10 بجے لندن روانہ ہوں گے اور پارٹی صدر محمد شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ان کے ہمراہ ہوں گے۔

ایئر پورٹ روانگی کے موقع پر بڑی تعداد میں کارکنان جاتی عمرا کے باہر موجود —تصویر: رائٹرز
ایئر پورٹ روانگی کے موقع پر بڑی تعداد میں کارکنان جاتی عمرا کے باہر موجود —تصویر: رائٹرز

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کی منتقلی کے لیے منگوائی گئی ایمبولینس جدید ترین آلات اور طبی سہولیات سے آراستہ ہے اور اس میں آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر بھی موجود ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سفر پر روانگی سے قبل ڈاکٹرز نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور سفر کے دوران خطرات سے بچانے کے لیے اسٹیرائڈ کی ہائی ڈوز اور ادویات دی گئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے وہ تمام طبی احتیاط پیش نظر رکھی ہے جن کے ذریعے محمد نواز شریف کا لندن تک محفوظ سفر یقینی ہو سکے۔

نواز شریف کی خرابی صحت سے روانگی تک

واضح رہے کہ نواز شریف کی صحت کی تشویش ناک حالت سے لے کر بیرونِ ملک روانگی کے تقریباً ایک ماہ کے عرصے کے دوران متعدد نشیب و فراز سامنے آئے۔

صحت کی تشویشناک صورتحال

22 اکتوبر کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو صحت کی تشویشناک صورتحال کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز تھے بعدازاں اس بورڈ میں مزید ڈاکٹروں اور ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کو بھی شامل کرلیا گیا تھا۔

میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کی تھی اور بتایا تھا کہ انہیں خلیات بنانے کے نظام خراب ہونے کا مرض لاحق ہے تاہم ڈاکٹر طاہر شمسی نے مزید تفصیلات فرہم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص ہوگئی ہے، ان کی بیماری کا نام ایکیوٹ امیون تھرمبو سائیٹوپینیا (آئی ٹی پی) ہے جو قابلِ علاج ہے۔

ضمانت کیلئے عدلیہ سے رجوع

دوسری جانب ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو العزیزیہ ریفرنس میں ان کی طبی بنیادوں پر ان کی سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ جبکہ چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سابق وزیراعظم کی حالت تشویشناک ہے جبکہ نیب نے بھی علاج کی صورت میں بیرونِ ملک روانگی سے متعلق مثبت رد عمل ظاہر کیا تھا جس پر عدالت نے ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانت مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

8 ہفتوں کیلئے سزا معطل

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی 26 اکتوبر کو العزیزیہ ریفرنس میں 3 روز کی ضمانت منظور کرلی تھی جس کی 29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا گیا تھا جبکہ مزید مہلت کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ہسپتال سے گھر منتقل

بعدازاں 5 نومبر کو صحت بہتر ہونے کے بعد نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی تاہم وہ 6 نومبر کو اپنی رہائش گاہ جاتی امرا روانہ ہوئے جہاں انہیں گھر میں قیام آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔

صحت کے حوالے سے ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت میں بہتری ہے تاہم پلیٹلیٹس میں بار بار کمی کے دیگر اسباب جاننے کے لیے جینٹیک ٹیسٹ ضروری ہیں جو پاکستان میں ممکن نہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نواز شریف بیرون ملک سفر کرسکتے ہیں۔

نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ

عدالتوں سے ریلیف ملنے کے بعد سابق وزیراعظم کا نام سفری پابندی کی فہرست ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ درپیش تھا جس کے لیے شہباز شریف نے 8 نومبر کو وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی جس نے نیب کی رضامندی طلب کی تھی۔

نیب نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے کے لیے میڈیکل رپورٹ طلب کی تاکہ نواز شریف کی صحت سے متعلق انہیں بیرون جانے کی اجازت دینے یا نہ دینے سے متعلق فیصلہ کیا جاسکے۔

انتظامی تاخیر کے سبب حکومت نے ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جس کے باعث بیرونِ ملک روانگی کے تمام تر انتظامات ہونے کے باوجود نواز شریف 10 نومبر کو لندن روانہ نہیں ہوسکے تھے۔

بعدازاں 11 نومبر کو وزارت داخلہ کے پاس تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور اسی دن نوٹس جاری کیا گیا، 12 تاریخ کو کابینہ کو بریفنگ دی اور انہیں ساری تفصیلات سے آگاہ کیا۔

بیرون ملک روانگی کی مشروط اجازت

جس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کروانے تھے۔

تاہم حکومت کی جانب سے عائد کی گئی شرط پر بیرونِ ملک سفر کی پیشکش کو قائد مسلم لیگ (ن) نے مسترد کردیا تھا۔

ادھر حکومت نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ’اگر نواز شریف کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی جائے اور وہ واپس نہ آئے تو قومی احتساب بیورو (نیب) اور عدالتیں پوچھ سکتی ہیں کہ حکومت نے کیوں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی‘۔

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

بیرونِ ملک روانگی کے حوالے سے جاری رہنے والی کشمکش کی صورتحال کے پیشِ نظر صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے 14 نومبر کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔

درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سےنواز شریف کا نام ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے شرائط رکھی جا رہی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے۔

بعدازاں اگلے ہی سماعت میں عدالت نے شہباز شریف سے سابق وزیراعظم کی واپسی سے متعلق تحریری حلف نامہ طلب کیا اور اس کی بنیاد پر نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

مزید عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے۔