شاہد خاقان کے خلاف ایل این جی ریفرنس دو ہفتے میں دائر کیا جائے گا، نیب

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2019

ای میل

تحقیقاتی ٹیم ایل این جی کنٹریکٹ ایوارڈ کا عمل سمجھنے میں ناکام ہوگئی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
تحقیقاتی ٹیم ایل این جی کنٹریکٹ ایوارڈ کا عمل سمجھنے میں ناکام ہوگئی ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایل این جی کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ریفرنس منظور کرلیا جو 2 ہفتے میں دائر کیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے دائر کیے جانے والے ریفرنس میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق پر بھی ایل این جی ٹرمینل ون کا ٹھیکہ غیر شفاف طور پر اینگرو انرجی ٹرمینل پرائیویٹ لمیٹڈ کو دینے کے الزامات بھی شامل ہوں گے۔

دوران سماعت مفتاح اسمٰعیل کے وکیل حیدر وحید کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو نے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور شیخ عمران الحق کے خلاف ریفرنس منظور کرلیا ہے۔

مزید پڑھیں: مجھے سہولیات ملنے سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پریشان رہتے ہیں، شاہد خاقان عباسی

خیال رہے کہ حیدر وحید نے مفتاح اسمٰعیل کو 90 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تحویل میں رکھنے سے متعلق نیب کے اختیارات کو چیلنج کیا تھا کیونکہ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت کسی ملزم کو 3 ماہ سے زائد عرصے تک زیرحراست نہیں رکھا جاسکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے عدالت میں کہا کہ تحقیقاتی ٹیم ایل این جی کنٹریکٹ ایوارڈ کا عمل سمجھنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایل این جی ٹرمینل بھارت، بنگلہ دیش اور ایشا کے دیگر ممالک کے ایسے 40 منصوبوں میں سب سے زیادہ اقتصادی اہمیت کا حامل تھا۔

سابق وزیراعظم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو حقیقت قبول کرے اور میرے خلاف تحقیقات بند کرے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 'میں ایل این جی ٹرمینل منصوبے کے معاہدے کی شفافیت کی مکمل ذمہ داری لیتا ہوں اور اگر اس میں کوئی بے ضابطگی ثابت کرسکتی ہے تو میں ٹرائل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں'۔

نواز شریف کے بیرون ملک علاج سے متعلق بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ان کا حق تھا کہ وہ اپنی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کرواتے۔

ایل این جی کیس

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار کیا تھا، اس کے علاوہ 7 اگست کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر مفتاح اسمٰعیل کو عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔

نیب کی جانب سے اس کیس کو 2016 میں بند کردیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 2018 میں اسے دوبارہ کھولا گیا۔

یاد رہے کہ نیب انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کی انتظامیہ نے غیر شفاف طریقے سے ایم/ایس اینگرو کو کراچی پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کا کامیاب بولی دہندہ قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ایس ایس جی سی ایل نے اینگرو کی ایک ذیلی کمپنی کو روزانہ کی مقررہ قیمت پر ایل این جی کی ریگیسفائینگ کے 15 ٹھیکے تفویض کیے تھے۔

نہ صرف شاہد خاقان عباسی بلکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پر بھی اپنی مرضی کی 15 مختلف کمپنیوں کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دے کر اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب تحقیقات اگلے مرحلے میں داخل

2016 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں نیب کراچی میں منعقدہ ریجنل بورڈ کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف انکوائری بند کردی گئی تھی۔

رواں برس 2 جنوری کو ای بی ایم نے اس وقت شاہد خاقان عباسی کے خلاف 2 انکوائریز کی منظوری دی تھی، جب وہ سابق وزیر پیٹرولیم اور قدرتی وسائل تھے۔

ان انکوائریز میں سے ایک ایل این جی کی درآمدات میں بے ضابطگیوں میں ان کی مبینہ شمولیت جبکہ دوسری نعیم الدین خان کو بینک آف پنجاب کا صدر مقرر کرنے سے متعلق تھی۔

تاہم شاہد خاقان عباسی کا موقف ہے کہ انہوں نے ایل این جی کی درآمد کے لیے دیے گئے ٹھیکے میں کوئی بے ضابطگی نہیں کی اور وہ ہر فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرسکتے ہیں اور یہ کہ 2013 میں ایل این جی کی برآمدات وقت کی اہم ضرورت تھی۔

مزید پڑھیں: ایل این جی کے ’غیر شفاف‘ ٹھیکوں پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ

اس سلسلے میں رواں برس مارچ میں سابق وزیر اعظم ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے، جس کے بعد احتساب کے ادارے نے ان پر سفری پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔

جس کے بعد اپریل میں حکومت نے 36 ارب 69 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت 5 افراد کے بیرونِ ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔

بعدازاں سابق وزیراعظم جون میں بھی تفتیش کے لیے نیب میں پیش ہوئے تھے تاہم نیب نے شاہد خاقان عباسی کو ان کے خلاف جاری تفتیش کے پیشِ نظر ایک مرتبہ پھر بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔