پھیپھڑوں کے بغیر پیدا ہونے والے بچے کو تین ماہ بعد گھر جانے کی اجازت

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2019

ای میل

بچے کو والدین کے حوالے کردیا گیا—فوٹو: خلیج ٹائمز
بچے کو والدین کے حوالے کردیا گیا—فوٹو: خلیج ٹائمز

رواں برس فروری میں جاپان سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ دنیا کے کم وزن ترین اور وقت سے کئی ماہ قبل پیدا ہونے والے بچے کو 7 ماہ تک ہسپتال میں رکھنے کے بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے کائیو یونیورسٹی ہاسپٹل میں اگست 2018 میں پیدا ہونے والے محض 268 گرام وزنی بچے کو فروری میں 7 ماہ بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

بچے کو جس وقت ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا اس وقت اس کا وزن بڑھ کر ساڑھے تین کلو ہو چکا تھا اور وہ کسی بھی نارمل بچے کی طرح بن چکا تھا۔

اور اب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک ہسپتال سے بھی نامکمل پھیپھڑوں سے پیدا ہونے والے بچے کو تین ماہ بعد گھرجانے کی اجازت دے دی گئی۔

مذکورہ بچہ یو اے ای کی عجمان میں فلپائن اور گھانا سے تعلق رکھنے والے جوڑے کے ہاں وقت سے کئی ماہ قبل پیدا ہوا تھا اور جس وقت اس کی پیدائش ہوئی تھی اس وقت بچے کا وزن محض 520 گرام یعنی آدھا کلو سے معمولی سا زیادہ تھا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق عجمان کے تھمبے ہسپتال میں بچے کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچے کی والدہ بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا تھیں جس وجہ سے ڈاکٹرز نے انہیں آپریشن کا مشورہ دیا اور بتایا کہ اگرچہ بچہ جسمانی طور پر پیٹ میں مکمل طور پر تیار نہیں ہوسکا، تاہم آپریشن کرنے سے مذکورہ بچے کے زندہ رہنے کے نصف امکانات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سب سے کم وزن جاپانی بچے کو 7 ماہ بعد گھر جانے کی اجازت

دنیا کے دوسرے کم وزن ترین بچے کو جنم دینے والی خاتون کا ایک بچہ ان کے بلڈ پریشر کی وجہ سے پیدائش سے قبل ہی مر چکا تھا اس لیے ڈاکٹرز نے انہیں حمل کے ساتویں مہینے آپریشن کروانے کا مشورہ دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹرز نے جب حاملہ خاتون کا آپریشن کیا اس وقت بچہ محض 28 ہفتوں کا تھا اور اس کے پھیپھڑے بھی مکمل طور پر نہیں بن سکے تھے۔

غیر متحرک پھیپھڑوں اور محض 520 گرام وزنی بچے کو ڈاکٹرز نے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں رکھ کر ڈرپ اور ٹیوب کے ذریعے مطلوبہ خوراک فراہم کی۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ مذکورہ بچے کو تین ماہ تک انتہائی سخت نگہداشت میں ماں کے پیٹ میں ملنے والی خوراک جیسی خوراک دی گئی اور جب بچے کی عمر 34 ہفتے ہوئی تو اسے ڈسچارج کردیا گیا۔

حال ہی میں بچے کو ڈسچارج کرکے والدین کے حوالے کردیا گیا اور اب مذکورہ بچے کا وزن سوا ایک کلو سے بڑھ چکا ہے اور وہ ایک صحت مند بچے کی طرح بن چکا ہے۔

ڈاکٹرز اور والدین نے بچے کے بچ جانے کو معجزہ قرار دیا اور اس بات پر شکر ادا کیا کہ انہیں کئی ماہ کے بعد ڈاکٹرز کی مسلسل محنت کے بعد اپنا بچہ صحت مند حالت میں ملا۔