سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی کرایہ داری ایکٹ مقدمے میں بری

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

مکان کا ایگریمنٹ عرفان صدیقی کے بیٹے کے نام تھا — تصویر: ٹوئٹر
مکان کا ایگریمنٹ عرفان صدیقی کے بیٹے کے نام تھا — تصویر: ٹوئٹر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگار عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ مقدمے میں بری کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ سنایا۔

مزید پڑھیں: کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر سابق مشیر عرفان صدیقی گرفتار

اسلام آباد پولیس نے عرفان صدیقی کا نام مقدمے سے خارج کرنے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کے بعد جسٹس عامر فاروق نے مقدمہ اخراج کی درخواست نمٹا دی۔

اسسٹنٹ کمشنر شالیمار کی جانب سے عرفان صدیقی کا نام مقدمے سے خارج کرنے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جس ایگریمنٹ کی بنیاد پر عرفان صدیقی کو گرفتار کیا گیا وہ عرفان صدیقی کے نام نہیں تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مکان کا ایگریمنٹ عرفان صدیقی کے بیٹے کے نام تھا لیکن پولیس کو بعد میں معلوم ہوا کہ عرفان صدیقی کا نام ایگریمنٹ میں شامل نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایگریمنٹ عرفان صدیقی کے بیٹے عمران خاور صدیقی اور جنید اقبال کے درمیان تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عرفان صدیقی 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

دوران سماعت عرفان صدیقی کے وکیل نے کہا کہ انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت کی جائے۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ آپ کا حق ہے، آپ اس سے متعلق علیحدہ کارروائی کرسکتے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ عدالت اگر انتظامیہ کے ایکٹ کے حوالے سے اپنے فیصلے میں لکھ دے تو بہتر ہے۔

میرے بنیادی حقوق سلب کیے گئے، عرفان صدیقی

بعدازاں عرفان صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ دو الگ الگ مقدمات تیار کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم ایک مقدمہ حق تلفی اور دوسرا جعلی سازی کا دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ جعلی نوٹیفکیشن اور جعلی آرڈر کے ذریعے میرے بنیادی حقوق سلب کیے گیے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی نے کہا کہ ’یہ میری ذات کا مسئلہ نہیں مجھے جیل میں ڈال کر ہتھکڑی لگا کر آج کہہ دیا اس کا کوئی قصور نہیں اس لیے اس مقدمے کو منطقی انجام تک جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: میرے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا، عرفان صدیقی

عرفان صدیقی نے کہا کہ ’انتظامیہ نے پولیس رپورٹ پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ بے معنی ایکسرسائز ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’فاضل جج نے بھی کہا کہ آپ کی حق تلفی ہوئی ہے تو آئینی اور قانونی حق استعمال کریں'۔

مقدمے کا پس منظر

خیال رہے کہ عرفان صدیقی کو 26 جولائی 2019 کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں اگلے ہی روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پیش کردیا گیا تھا۔

پولیس حکام کا مؤقف تھا کہ عرفان صدیقی نے مکان کرایے پر دیتے ہوئے متعلقہ تھانے میں اندراج نہیں کروایا تھا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق مکان میں جاوید اقبال نامی شخص اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہے۔

مزید پڑھیں: سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی ضمانت کے بعد رہا

عرفان صدیقی کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق سابق معاون خصوصی کو کرمنل پروسیجر ایکٹ کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت گرفتار کیا گیا۔

مذکورہ قانون کے تحت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے جائیدادوں کے تمام مالکان کو ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ مکان کرایے پر دینے سے قبل مقامی پولیس اسٹیشن کو آگاہ کیا جائے۔

بعد ازاں عرفان صدیقی کو 27 جولائی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا تھا تاہم انہوں نے اگلے ہی روز ضمانت کی درخواست دائر کردی تھی جس پر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی کو ہتھکڑیوں میں پیش کرنے پر کافی تنقید بھی کی گئی تھی، وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگانے کے معاملے پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کو رپورٹ سمیت پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ عرفان صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز راولپنڈی کے اسکول میں سلسلہ تدریس سے کیا تھا اور وہ ملک کی اہم شخصیات کے استاد بھی رہ چکے ہیں، جن میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ بھی شامل ہیں، جو ایف جی سر سید اسکول میں عرفان صدیقی کے شاگرد تھے۔