چوہدری شوگر ملز کیس: نواز شریف، مریم نواز کو حاضری سے استثنیٰ

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

مریم نواز کے کزن یوسف عباس کے عدالتی ریمانڈ پر بھی اگلی سماعت تک توسیع کردی گئی —فوٹو: عدنان شیخ
مریم نواز کے کزن یوسف عباس کے عدالتی ریمانڈ پر بھی اگلی سماعت تک توسیع کردی گئی —فوٹو: عدنان شیخ

لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز (سی ایس ایم) مقدمے میں حاضری سے استثنی منظور کردی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کو 4 ہفتوں جبکہ ان کی صاحبزادی کو ریفرنس فائل ہوجانے تک استثنیٰ دیا گیا۔

مزید پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی درخواست پر نیب کا جواب جمع

دوران سماعت احتساب عدالت کے جج چوہدری عامر محمد خان نے استفسار کیا کہ سی ایس ایم کیس میں ریفرنس کی کیا حیثیت ہے؟

جس کے جواب میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان نے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور جیسے ہی یہ کام مکمل ہوگا، ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

عدالت میں پیش ہونے والی مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ریفرنس دائر ہونے تک عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دینے کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔

کارروائی میں نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے ایک اور درخواست بھی پیش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت: چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کے عدالتی ریمانڈ میں توسیع

درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم نواز کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیورو، درخواست پر تحریری جواب پیش کرے گا۔

مریم نواز کے وکیل ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے ضمنی ریفرنس بھی داخل نہیں کیا اور پوچھا کیا کہ ملزمان کو طلب کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟

انہوں نے کہا کہ فوجداری قانون کے مطابق جب تک چالان موصول نہیں ہوتا تب تک مشتبہ افراد کو عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لاہور ہائیکورٹ نے مذکورہ کیس میں مریم نواز کی ضمانت منظور کی تھی۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کی اپنے والد سے ہسپتال میں ملنے کی درخواست مسترد

نیب کو شک ہے کہ مریم نواز نے منی لانڈرنگ کے ذریعے سی ایس ایم میں بھاری رقوم کی سرمایہ کاری کی ہے۔

نیب کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ جب مریم نواز کے والد وزیراعظم تھے تب انہوں نے غیر ملکیوں کے تعاون سے 93-1992 کے درمیانی عرصے میں منی لانڈرنگ کی۔

دریں اثنا نواز شریف کی استثنیٰ درخواست کے بارے میں جج نے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم آج عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے؟

جس کے جواب میں ان کے وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے ہیں۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ مکمل علاج کے بعد نواز شریف پاکستان واپس آجائیں گے اور اپنے خلاف تمام مقدمات کا سامنا کریں گے۔

دونوں استثنیٰ کی درخواستوں کے جواب میں نیب نے کہا کہ وہ تحریری جواب داخل کرے گا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی صحت کو نقصان پہنچا تو وزیر اعظم ذمہ دار ہوں گے، مسلم لیگ (ن)

جس پر عدالت نے احتساب بیورو کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سماعت کے دوران مریم نواز کی درخواست پر اپنے دلائل پیش کریں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر کسی کو ضمانت مل جاتی ہے تو ان کے لیے مقدمے کی سماعت میں پیش ہونا ضروری تھا۔

نیب کو سی ایس ایم کیس میں تیزی سے ریفرنس پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کارروائی 6 دسمبر تک ملتوی کردی۔

علاوہ ازیں مریم نواز کے کزن یوسف عباس کے عدالتی ریمانڈ میں بھی اگلی سماعت تک توسیع کردی گئی۔

چوہدری شوگر ملز کیس

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی درخواست پر نیب کا جواب جمع

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

8 اگست کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا۔

جس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے انہیں 4 ستمبر کو مزید 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

18 ستمبر کو انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کی تھی اور 25 ستمبر کو انہیں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں جب 25 ستمبر کو مریم نواز کو پیش کیا گیا تھا تو ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

مریم نواز کے عدالت ریمانڈ میں بھی کئی مرتبہ توسیع ہوچکی ہے اور آخری مرتبہ جب 25 اکتوبر کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو 8 نومبر تک ان کے عدالتی ریمانڈ میں توسیع کی گئی تھی۔

6 نومبر کو لاہور کی احتساب عدالت سے رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔