آسٹریلیا: اسلام دشمنی میں حاملہ خاتون پر لاتوں اور مکوں سے حملہ

22 نومبر 2019

ای میل

آسٹریلیا کی معروف اسلامک ایسوسی ایشن نے واقعے کو اسلام دشمنی میں کیا جانے والا حملہ قرار دیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
آسٹریلیا کی معروف اسلامک ایسوسی ایشن نے واقعے کو اسلام دشمنی میں کیا جانے والا حملہ قرار دیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

سڈنی میں ایک شخص کو ایک حاملہ خاتون پر لاتوں اور مکوں سے حملے کا ملزم ٹھہرا دیا گیا۔

آسٹریلیا کی معروف اسلامک ایسوسی ایشن نے واقعے کو اسلام دشمنی میں کیا جانے والا حملہ قرار دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق سیکیورٹی کیمرا سے حاصل ہونے والی حیران کن فوٹیج میں مغربی سڈنی کے ایک کیفے میں ملزم کو ایک ٹیبل کی جانب بڑھتے دیکھا گیا جہاں اسکارف سے سر ڈھانپے تین خواتین بیٹھی ہیں اور آپس میں محو گفتگو ہیں۔

خواتین کی طرف سے کوئی اشتعال نہیں دلایا گیا لیکن اس کے باوجود 43 سالہ ملزم ٹیبل کی جانب بڑھا اور 31 سالہ خاتون پر حملہ کیا، جو پولیس کے مطابق 38 ہفتے کی حاملہ تھیں۔

ملزم نے پہلے خاتون کو مکے مارے اور جب وہ نیچے گر پڑیں تو ان پر لاتوں سے بھی حملہ کیا جس کے بعد قریب موجود دیگر افراد نے اسے خاتون سے دور کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم پر حملہ کرکے زخمی کرنے اور فساد پھیلانے کے چارجز لگائے گئے ہیں اور اس کی بریت کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا مسلمان مخالفین کیلئے زرخیز زمین ہے، ماہرین

پولیس نے ملزم کی جانب سے حملے کے محرکات بتانے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف اضافی چارجز بھی لگائے جاسکتے ہیں۔

آسٹریلین فیڈریشن آف اسلامک کونسلز (اے ایف آئی سی) نے کہا کہ ملزم کو متاثرہ خاتون اور ان کی دوستوں پر چیختے ہوئے اسلام مخالف نفرت انگیز جملے بولتے دیکھا گیا تھا۔

فیڈریشن کے صدر راطب جنید کا کہنا تھا کہ 'یہ واضح طور پر نسلی اور اسلام دشمنی میں کیا جانے والا حملہ ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اسے اس کے مطابق ہی دیکھا جائے گا۔'

پولیس انسپکٹر لوک سیونکی نے کہا کہ 'اگر برادری کے اراکین کی جانب سے اس حملے کو روکا نہ جاتا تو متاثرہ خاتون کو شدید چوٹیں آسکتی تھیں۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: اسلام اور نسل پرستی مخالف ریلیوں میں تصادم

انہوں نے کہا کہ حملے کا نشانہ بننے والی خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد کے بعد انہیں ڈسچارج کردیا گیا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں چارلس اسٹَرٹ یونیورسٹی کے محققین کی تیار کردہ رپورٹ میں یہ سامنے آیا تھا کہ آسٹریلیا میں اسلام دشمنی ایک مستقل رجحان ہے اور اسکارف لینے والی خواتین کو خصوصی طور پر حملوں کا خطرہ ہے۔