معیشت کو اب بھی چیلنجز درپیش ہیں، مشیر خزانہ

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2019

ای میل

آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاشی اہداف طے کیے گئے انہیں پورا کیا جائے گا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاشی اہداف طے کیے گئے انہیں پورا کیا جائے گا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو تاحال معاشی حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستان انوویٹیو فنانس فورم سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتصادی استحکام آنا شروع ہوگیا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جو معاشی اہداف طے کیے گئے ان کو پورا کیا جائے گا۔

مزیدپڑھیں: سی پیک، پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرے گا، امریکا کا انتباہ

انہوں نے عندیہ دیا کہ آئی ایم ایف رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی میں پاکستان کے اہداف سے مطمئن ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے معاشی لحاظ سے مشکل فیصلے کیے، اپنے اخراجات کم کیے اور برآمد گنندگان کو مراعات دیں، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا اور اب اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوگیا۔

دوران گفتگو مشیر خزانہ نے پیشگوئی کی کہ رواں مالی سال مجموعی ملکی پیداوار کی ترقی مقررہ ہدف سے زیادہ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولی میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور نان ٹیکس ریونیو گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنا ہوگیا۔

مزیدپڑھیں: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی ایمنسٹی اسکیم کو آسان بنانے کی ہدایت

انہوں نے بتایا کہ 4 ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، تاہم معاشی لحاظ سے ابھی بھی چینلجز درپیش ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مطابق ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے لیکن گزشتہ 16 ماہ حکومت کو معیشت کو درست راہ پر گامزن کرنے میں لگ گئے اور اب معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

علاوہ ازیں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق امریکی معاون نائب وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا مشیر خزانہ نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی دراصل اس وقت سب زیادہ ہوگی جب دنیا کے دیگر ممالک بھی منصوبے میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک میں جتنے زیادہ ممالک شامل ہوں گے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہوگا۔

مزیدپڑھیں: سی پیک کا قرضہ مجموعی قرضے کا صرف 7 فیصد ہے، اسد عمر

واضح رہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی سب سے اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے گزشتہ دنوں ایک ’غیر معمولی‘ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک منصوبہ پہلے سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے، بدعنوانی میں اضافے کا سامنا کرنے والے پاکستان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا جبکہ منافع اور روزگار چین کو ملے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ معاون سیکریٹری ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان کے لیے امداد نہیں بلکہ مالی معاملات کی ایسی شکل ہے جو چین کی سرکاری کمپنیوں کے فوائد کی ضمانت دیتا ہے جبکہ پاکستان کے لیے اس میں انتہائی معمولی فائدہ ہے۔

اس ضمن میں مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کے تحت ملک میں سڑکوں کا نیٹ ورک اور بجلی کے نئے منصوبے کے ساتھ ریلوے نظام کی بہتری اور اقتصادی زون پر بھی کام ہوگا لیکن ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ دنیا کو سی پیک کے بارے میں بتائیں۔

ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام ضروری ہے، شمشاد اختر

دوسری جانب سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔

علاوہ ازیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے انفرا اسٹرکچر بنیادی حیثیت ہے۔

پاکستان کو ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہے، انگرڈ وین ویز

ادھر ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کی نائب صدر برائے فنانس اینڈ رسک منیجمنٹ انگرڈ وین ویز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے ڈی بی سماجی انفرااسٹرکچر میں 10 کروڑ ڈالر فراہم کررہا ہے جبکہ پاکستان کو ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کیپٹل مارکیٹ میں وسعت اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔

انگرڈ وین ویز نے کہا کہ سندھ میں خواتین کی تعلیم کی سہولت کے لیے معاونت کررہے ہیں۔