ٹیلی نار پاکستان کی ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2019

ای میل

16 نومبر کے واقعے کے بعد پی ٹی اے سے منسوب ایک جعلی نوٹی فکیشن زیر گردش ہے— فائل فوٹو: ڈان
16 نومبر کے واقعے کے بعد پی ٹی اے سے منسوب ایک جعلی نوٹی فکیشن زیر گردش ہے— فائل فوٹو: ڈان

ٹیلی نار پاکستان نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کی ہے اور ملک میں اپنی سروسز بند ہونے سے متعلق افواہوں کو بھی مسترد کردیا۔

نارویجین ٹیلی نار گروپ کی کمپنی ٹیلی نار پاکستان نے اس حوالے سے جاری اعلامیے میں 16 نومبر کو ناروے کے شہر کرسٹیان سینڈ میں پیش آنے والے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور قرآن مجید کی بے حرمتی کی مذمت کی۔

خیال رہے کہ 16 نومبر کے واقعے کے بعد پی ٹی اے سے منسوب ایک جعلی نوٹی فکیشن زیر گردش ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیلی نار کی سروسز 11 دسمبر کے بعد پاکستان میں موجود نہیں ہوں گی۔

جعلی نوٹی فکیشن میں زور دیا گیا تھا کہ تمام ٹیلی نار صارفین اپنے موبائل فون بیلنس جلد از جلد استعمال کرلیں اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں موجود رقم کو بینک اکاؤنٹ یا کسی دوسرے نیٹ ورک پر منتقل کرلیں۔

نوٹس میں بتایا گیا تھا کہ اگر صارفین اپنا موبائل نمبر تبدیل نہیں کرنا چاہتے تو وہ 10 دسمبر تک اپنا نمبر کسی دوسرے نیٹ ورک پر تبدیل کرلیں۔

مزید پڑھیں: ترجمان پاک فوج کا ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے والے نوجوان کو سلام

تاہم گزشتہ روز ٹیلی نار کی جانب سے جاری اعلامیے میں سروس کی بندش کی افواہوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ ' کمپنی پاکستان سے وابستہ ہے اور اسے لاکھوں پاکستانیوں کی خدمت کرنے پر فخر ہے'۔

ٹیلی نار پاکستان نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بھی اس نوٹس کو مسترد کردیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ' کمپنی ان افواہوں اور جعلی پیغامات کو نظر انداز کرنے پر صارفین کی مشکور ہے'۔

دوسری جانب پی ٹی اے نے بھی جعلی نوٹی فکیشن کو مسترد کیا اور عوام سے سرکاری ذرائع جیسا کہ پی ٹی اے کی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پیجز تک رسائی پر زور دیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ' پی ٹی اے ایک موبائل کمپنی کے حوالے سے واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرنے والے جعلی اشتہار سے آگاہ ہے'۔

پی ٹی اے نے کہا کہ ' واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرنے والا اشتہار جعلی ہے، پی ٹی اے نے ایسا کوئی اشتہار جاری نہیں کیا، عوام سے گزارش ہے کہ ایسے جعلی پیغامات پر توجہ نہ دیں'۔

خیال رہے کہ 16نومبر کو ناروے کے علاقے کرسٹیان سینڈ میں منعقدہ اسلام مخالف ریلی کے رہنما نے پولیس حکام کی جانب سے کئی مرتبہ انتباہ کے باوجود قرآن پاک کی بے حرمتی کی کوشش کی تھی۔

اسلام مخالف تنظیم کے رہنما لارس تھورس نے قرآن پاک کے نسخے کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نفرت پر مبنی جرم: ناروے کے عوام مسلمانوں کی حمایت میں نکل آئے

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ جب سیان کے رہنما لارس تھورسن قرآن پاک کو نذرآتش کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ناروے میں مقیم نوجوان نے رکاوٹوں کو عبور کیا اور سیان کے رہنما کو لات مار کر گرا دیا۔

بعد ازاں پولیس نے مداخلت کی اور اسلام مخالف رہنما اور مسلمان نوجوان کو تحویل میں لے لیا تھا۔

قرآن پاک کی بے حرمتی کی کوشش پر ملک گیر سطح پر مذمت کی گئی اور کئی پاکستان نے نوجوان کی تعریف کرتے ہوئے مسلم امہ کا ہیرو قرار دیا۔

دوسری جانب کرسٹیان سینڈ کے میئر نے واقعے کی مذمت کی تھی اور مسلمان برداری کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

میئرہارالڈ فیور نے ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے این آر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ' کرسٹیان سینڈ ایک شہر ہے جو ہر شخص کے لیے ہے اور ہم جداگانہ حیثیت پیدا کرنے کے لیے منظم طریقے سے کرتے ہیں، ایسے عمل اشتعال انگیز اور افسوسناک ہیں۔