بھارت میں 100 فیصد ٹوائلٹ بنانے کا نریندرمودی کا دعویٰ جھوٹا نکلا

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2019

ای میل

ایک دہائی قبل 70 فیصد بھارتی لوگ سر عام رفع حاجت کرتے تھے —فائل فوٹو: اے ایف پی
ایک دہائی قبل 70 فیصد بھارتی لوگ سر عام رفع حاجت کرتے تھے —فائل فوٹو: اے ایف پی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ 2 اکتوبر کو دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت نے ملک بھر میں ریکارڈ 10 کروڑ سے زائد ٹوائلٹ بنالیے۔

نریندر مودی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اب بھارت میں کہیں بھی کوئی شخص سر عام رفع حاجت نہیں کرتا جبکہ ملک کے دیہی علاقوں میں ریکارڈ ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں۔

نریندر مودی نے پہلی بار 2014 میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ’صاف انڈیا‘ مہم کا اعلان کرتے ہوئے اگلے 5 سال تک بھارت بھر میں ریکارڈ ٹوائلٹ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ اکتوبر 2019 تک بھارت میں کوئی بھی شہری ٹوائلٹ کے بغیر رفع حاجت نہیں کرے گا اور گزشتہ ماہ 2 اکتوبر کو انہوں نے ’عالمی ٹوائلٹ ڈے‘ سے 2 ہفتے قبل ہی یہ دعویٰ کیا کہ بھارت سر عام رفع حاجت سے آزاد ہوگیا۔

تاہم اب سامنے آنے والی بھارتی حکومت کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت کے 30 فیصد دیہی علاقے اب بھی ٹوائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

جی ہاں، بھارتی حکومتی ادارے ’نیشنل اسٹیٹکس آفس‘ (این ایس او) کے مطابق بھارت کے دیہات کے 30 فیصد گھر اب بھی ٹوائلٹ سے محروم ہیں جب کہ نئے بنائے گئے ٹوائلٹ میں سے بھی 5 فیصد ٹوائلٹ کو استعمال ہی نہیں کیا جا رہا۔

بھارتی حکومت نے عوام میں شعور بیدا کرنے کے لیے مفت لیٹرین بھی تقسیم کیے—فوٹو: اے ایف پی
بھارتی حکومت نے عوام میں شعور بیدا کرنے کے لیے مفت لیٹرین بھی تقسیم کیے—فوٹو: اے ایف پی

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق این سی او سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس کے دوران کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں اب بھی 100 فیصد ٹوائلٹ نہیں بنے۔

حکومتی ادارے کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق 71 فیصد دیہی گھروں میں ٹوائلٹ بنائے جا چکے ہیں لیکن اس میں سے بھی تقریبا 5 فیصد ٹوائلٹ استعمال ہی نہیں کیے جا رہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: سرعام رفع حاجت کرنے پر 2 ’دلت‘ بچوں کو تشدد کے بعد قتل کردیا گیا

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ بھارت بھر میں ٹوائلٹ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور شہری علاقوں سمیت دیہی علاقوں میں سر عام رفع حاجت کرنے میں کمی ہوئی ہے۔

نریندر مودی نے اکتوبر 2019 میں دعویٰ کیا تھا کہ اب کوئی بھارتی سرعام رفع حاجت نہیں کرتا—فوٹو: ہندوستان ٹائمز
نریندر مودی نے اکتوبر 2019 میں دعویٰ کیا تھا کہ اب کوئی بھارتی سرعام رفع حاجت نہیں کرتا—فوٹو: ہندوستان ٹائمز

تاہم یہ دعویٰ غلط ہے کہ بھارت میں 100 فیصد ٹوائلٹ بنائے جا چکے ہیں اور اب ملک میں کہیں بھی سر عام رفع حاجت نہیں ہوتی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس سرعام رفع حاجت سے فری قرار دی گئی 11 ریاستوں میں شامل ہریانہ کے ایک ہی گاؤں کے 200 افراد اب تک سرعام رفع حاجت کرتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے سر عام رفع حاجت سے فری قرار دی گئی ریاستوں کے جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2017 تک بھارت بھر کے دیہی علاقوں میں 44 فیصد لوگ سرعام رفع حاجت کر رہے تھے۔

حکومتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں کے دیہی علاقوں میں 40 فیصد سے زائد گھر ٹوائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں جب کہ کچھ ریاستوں میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریاست اڑیسا کے 50 فیصد دیہی گھروں، اترپردیش کے 48 فیصد، جھارکھنڈ کے 41 فیصد اور تامل ناڈو کے 37 فیصد دیہی گھر اب بھی ٹوائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق اب بھی 30 فیصد دیہی علاقے ٹوائلٹ سے محروم ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی
حکومتی رپورٹ کے مطابق اب بھی 30 فیصد دیہی علاقے ٹوائلٹ سے محروم ہیں —فائل فوٹو: اے ایف پی