صد سالہ تاریخ کا امین 'اوم کنہیا لال کاٹیج'

02 دسمبر 2019

ای میل

عالیشان اوم کنہیا لال کاٹیج
عالیشان اوم کنہیا لال کاٹیج

پاکستان میں متنوع فنِ تعمیرات کی حامل ڈھیروں عمارتیں اور یادگاریں موجود ہیں جو تقسیمِ ہند سے پہلے کے زمانوں کی یاد تازہ کردیتی ہیں۔ ہند اسلامی اور مغلیہ طرزِ تعمیر سے لے کر گوتھک اور نیم کلاسیکی فنِ تعمیرات سے مزین عمارتیں اپنے اندر اپنے اپنے زمانوں کی یادیں سموئے ہوئے ہیں۔

گزرتے برسوں کے ساتھ چند عمارتوں کو تو تاریخی ثقافتی ورثے کی حیثیت بھی نصیب ہوئی لیکن فنڈز کی کمی کے باعث وہ عمارتیں ویران اور کھنڈر بنتی جا رہی ہیں، جن کی مرمت یا انہیں اصلی حالت میں برقرار رکھنے کا کوئی انتظام موجود نہیں۔

انہی عمارتوں میں سے ایک صوبہ سندھ کے شہر روہڑی کے مرکزی علاقے میں موجود اوم کنہیا لال کاٹیج ہے۔

نیوی پارک کے قریب ناکو چوک نامی چوراہے پر واقع یہ گھر تقریباً 100 سال پرانا ہے۔ 1930ء میں تعمیر کی جانے والی اس عمارت کو ’ست ماڑ‘ بھی پکارا جاتا ہے۔ (ست ماڑ سندھی زبان کے الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے 7 منزلہ)۔

اس عمارت کے مالک دولت مند کاروباری اوم کنہیا لال تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ موجودہ پاکستان سے ہجرت کرکے چلے گئے۔ اب معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ گھر فروخت کیا تھا یا پھر ایسے بہت سوں کی طرح یونہی دے گئے تھے جنہوں نے افراتفری کے عالم میں اپنی جائیدادوں کو چھوڑ کر ہجرت کی۔

لکڑی سے بنے دروازہ اور جھرونکے
لکڑی سے بنے دروازہ اور جھرونکے

جب تاریخی و ثقافتی مقامات کی سیر کے سلسلے میں روہڑی جانا ہوا تب اس عمارت کو دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔

اسی دوران میرا رابطہ اس گھر کے موجودہ رہائشیوں میں سے ایک فرخندہ جاوید نامی اسکول ٹیچر سے ہوا۔ اس گھر میں اس وقت صرف وہ اور ان کے اہل خانہ ہی مقیم نہیں، بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ اس 7 منزلہ بڑے گھر کو 5 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ یوں اس وقت اس وقت میں 5 خاندان رہائش پذیر ہیں جن کے لیے الگ الگ داخلی دروازہ موجود ہے۔

چلچلاتی دوپہر میں عمودی پہاڑی چڑھتے چڑھتے سانس پھول گیا تھا۔ جب میں اس تاریخی عمارت کے پاس پہنچی تو اپنے سامنے گھر کا عالیشان بیرونی نظارہ دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ کاٹیج کے بیرونی حصے میں زرد اور سرخ اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے، جسے لکڑی سے بنے جھروکوں سے آراستہ بھی کیا گیا ہے۔

گھر میں موجود 5 حصوں میں سے میں ایک حصے کے اندر داخل ہوئی۔ ابتدائی طور پر یہی اس گھر کا مرکزی داخلی حصہ تھا لیکن اس وقت اسے پچھلے دروازے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

گھر کے اس حصے میں کامران اور ان کا خاندان رہائش پذیر ہے۔ جب میں وہاں پہنچی تو کامران نے میرا پرتپاک استقبال کیا اور مجھے کھانے اور ٹھنڈے پانی کی پیش کش کی۔ گھر تک پہنچتے پہنچتے میں کافی تھک چکی تھی لیکن جیسے ہی میں گھر کے کمروں میں داخل ہوئی تو مجھے موٹی اینٹوں سے بنی دیواروں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ٹھنڈک محسوس ہوئی۔

اس عمارت میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے کشادہ برآمدے تھے جن کی چھتیں بیلجین گارڈرز پر ٹکی ہوئی ہیں۔ کمروں کی اونچائی انہیں ہوادار بناتی ہے اور کشادگی کا احساس بخشتی ہے۔ ایئر کنڈیشنر (اے سی) کے بغیر بھی گرم ترین پہروں میں بھی حبس یا گھٹن کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔

کاٹیج سے لینڈس ڈاؤن برج اور ایوب برج کا نظارہ
کاٹیج سے لینڈس ڈاؤن برج اور ایوب برج کا نظارہ

جب گھر کے اس حصے میں مقیم خاندان سے بات چیت ہوئی تو یہ اندازہ ہوا کہ انہیں اس عمارت کی ثقافتی و تاریخی قدر و قیمت کا بخوبی اندازہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس گھر سے جڑی تفصیلات بتانے میں بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں جن کی وہ آگاہی رکھتے ہیں۔

اس گھر میں فنِ تعمیرات کی چند پرانی نشانیاں اس وقت بھی اصلی حالت میں موجود ہیں، مثلاً دیوار میں بنی ہوئی الماریاں اور ان کے دروازے، پھولوں کے طرز پر بنائے گئے متوازن ڈیزائن سے مزین سیمنٹ کے فرش، برآمدے میں موجود ریلنگس اس وقت بھی اپنی مضبوطی قائم رکھے ہوئے ہیں جن میں لوہے کی ہنرمندی کا ثبوت دیتی خوبصورت جالیاں نصب ہیں اور ان کے اوپر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔

بالکونی کے نیچے بنی لکڑی کے نفیس کام کی حامل محرابوں اور جالیوں کو بھی بہتر انداز میں اپنی حالت میں بحال رکھا گیا ہے۔ مجھے گھر میں موجود باہر نکلنے کا خفیہ راستہ بھی دکھایا گیا جو ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

کاٹیج کی چھت کو دُور فاصلے سے دیکھا جاسکتا ہے
کاٹیج کی چھت کو دُور فاصلے سے دیکھا جاسکتا ہے

گھر کی طرزِ تعمیرات کی اصلی صد سالہ خصوصیات کو دیکھ اور چُھو کر آپ خود یادِ ماضی میں گم سے ہوجاتے ہیں۔

ہاں اب ایسا بھی نہیں کہ سب پرانے جیسا ہے، بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ مکینوں نے گھر کے مرمتی کاموں کے دوران اپنی ضروریات کے مطابق اس گھر میں بہت سی تبدیلیاں بھی پیدا کیں۔

کامران صاحب کی چھوٹی بیٹی مریم مجھے تنگ اور گھماؤ دار سیڑھیوں کے ذریعے اوپر لے گئیں۔ پہلی کُھلی چھت تک پہنچنے کے لیے ہم 5 سیڑھیاں چڑھے، سیڑھی کا ایک زینہ کم از کم بھی ایک فٹ اونچا تھا، یہ چھت بھی کیا شاندار تخلیق کا نمونہ ہے! آدھی ڈھکی اس کھلی چھت پر محرابوں کی طرز پر بنے 12 جھرونکے بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اسے 12 دری بھی پکارا جاتا ہے۔

اس چھت کے متوازن کھلے حصے میں سولر پینلز رکھے گئے ہیں، جو سندھ کے کئی حصوں میں لوگ اپنے گھروں پر طویل لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے نصب کرواتے ہیں۔ گھر کی ساتویں منزل پر ایک اور کُھلی چھت ہے، لیکن وہاں تک رسائی بند کردی گئی ہے تاکہ بچے اوپر نہ جاسکیں اور کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جاسکے۔

کاٹیج کی بالکونیاں اور جھرونکے
کاٹیج کی بالکونیاں اور جھرونکے

کھلی چھت پر ہوا کے تیز جھونکے ہمیں چُھو رہے تھے اور 12 دری سے لینڈس ڈاؤن اور ایوب برج کا شاندار نظارہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ وہاں کھڑی ہوکر میں اس گھر کے پہلے مکینوں کو تصوراتی طور پر دیکھ پا رہی تھی، ٹھیک ویسے ہی جیسے میری آنکھوں کے سامنے کامران صاحب کا خاندان تھا۔ یہ کھلی چھت یقیناً ماضی میں شام کی چائے پر باتوں اور برجوں کے نظاروں سے لطف اٹھانے کی جگہ رہی ہوگی۔

اس عمارت کو دیکھ کر یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ اسے صرف ایک خاندان کی رہائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ گزرتے برسوں کے ساتھ بڑھتی آبادی اور جائیدادوں کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ہماری رہائش گاہیں چھوٹی ہوئی ہیں اور انہیں معقول انداز میں استعمال میں لانا چاہیے، یہی اصول موجودہ اوم کنہیا لال کاٹیج میں استعمال ہوتا ہوا نظر آیا۔


یہ مضمون 24 نومبر 2019ء کو ڈان اخبار کے ایؤس میگزین میں شائع ہوا۔