عراق:وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا پرتشدد احتجاج کے بعد استعفے کا اعلان

29 نومبر 2019

ای میل

عراقی وزیراعظم نے آیت اللہ علی سیستانی کے مطالبے کے بعد استعفے کا اعلان کردیا—فوٹو:اے ایف پی
عراقی وزیراعظم نے آیت اللہ علی سیستانی کے مطالبے کے بعد استعفے کا اعلان کردیا—فوٹو:اے ایف پی

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گزشتہ دو ماہ سے جاری پرتشدد احتجاج کے بعد بالآخر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا جبکہ اس دوران 420 سے زائد شہری جاں بحق ہوگئے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق عادل عبدالمہدی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان عراق کے مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی کی جانب سے جمعے کے خطبے میں مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے نئے حکومت تشکیل دینے کے مطالبے کے بعد کیا۔

عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘آیت اللہ کے مطالبے اور دیگر سہولت کاروں کے جواب میں اپنا استعفیٰ پارلیمنٹ میں پش کروں گا اور ان سے مطالبہ کروں گا کہ وہ حکومت کی قیادت سے میرا استعفیٰ منظور کریں’۔

انہوں نے اپنے بیان میں واضح نہیں کیا کہ وہ کب مستعفی ہوں گے جبکہ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس یکم دسمبر کو طلب کرلیا گیا ہے جہاں بحران پر بحث کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:عراق میں پرتشدد مظاہرے جاری، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 35 افراد ہلاک

آیت اللہ علی سیستان نے اراکین اسمبلی پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کریں اور تشدد کو روکنے کے لیے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔

عراقی مظاہرین نے وزیراعظم کے اعلان کے بعد جشن منانا شروع کردیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک پورا سیاسی طبقہ استعفیٰ نہیں دیتا۔

بغداد کے تحریر اسکوائر میں موجود ایک نوجوان مصطفیٰ حفید کا کہنا تھا کہ ‘عادل عبدالمہدی کا استعفیٰ ابتدا ہے، ہم اس وقت تک سڑکوں پر موجود ہوں گے جب تک پوری حکومت اور دیگر تمام کرپٹ سیاست دان چلے نہیں جاتے’۔

وزیراعظم کے استعفے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ایک اور نوجوان علی السیدا کا کہنا تھا کہ ‘یہ کافی نہیں ہے، ہمیں جڑ سے شاخوں تک ان سب کو باہر کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس دباؤ کو ختم نہیں کریں گے’۔

پرتشدد کارروائیاں جاری

دوسری جانب عراق بھر میں پرتشدد کارروائیاں جاری رہیں جہاں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ناصریہ کے شمالی علاقے میں کم ازکم تین افراد کو نشانہ بنایا جبکہ نجف میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:عراق میں مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے کو آگ لگادی

نجف میں گزشتہ روز پرتشدد احتجاج ہوا تھا جو ملک بھر میں پھیل گیا اور سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں 60 سے زائد شہری مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ عراق میں بے روزگاری، مہنگائی اور کرپشن کے خلاف یکم اکتوبر کو احتجاج شروع ہوا تھا جو تشدد کی شکل اختیار کرگیا اور ابتدائی دنوں میں 200 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

یکم اکتوبر سے اب تک ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 420 تک پہنچ گئی ہے جس میں تازہ 15 ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔