چین کی سرکاری ٹی وی رپورٹر کو لندن میں سزا

30 نومبر 2019

ای میل

چینی صحافی نے
چینی صحافی نے

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی خاتون رپورٹر کو ایک پروگرام میں برطانوی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے ایک مباحثے کے دوران ایک کارکن کو تھپڑ مارنے کے الزام پر سزا سنائی اور جرمانہ بھی عائد کردیا۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 49 سالہ رپورٹ لنلن کونگ کو ہانگ کانگ کے حوالے سے ایک مباحثے کے دوران کنزرویٹو پارٹی کے ایک کارکن کو تھپڑ مانے پر مقامی عدالت نے سزا سنائی۔

مجسٹریٹ کی عدالت میں سماعت کے دوران بتایا گیا کہ صحافی نے ‘چین سے علیحدگی کے حق میں دلائل دینے پر انسانی حقوق کے رکن لیو پر چیخنا شروع کیا اور جب انہیں دور جانے کا کہا گیا تھا تو انہوں نے لیو کو تھپڑ مارا’۔

یہ بھی پڑھیں:چین: سنکیانگ میں قیدیوں سے سلوک سے متعلق خفیہ رپورٹس میں انکشافات

جج شمیم قریشی کا کہنا تھا کہ ‘مباحثے کے دوران دلائل پر وہ بطور پیشہ ور صحافی کے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پائی اور جذبات میں حملہ آور ہوگئیں’۔

مجسٹریٹ نے چینی صحافی کو ایک سال کی مشروط سزا سنائی تاہم جیل نہیں بھیجا لیکن اسی دورانیے میں دوسرے جرم کی صورت میں جیل بھیج دیا جائے گا۔

جج شمیم قریشی نے چینی صحافی کو مخالف فریق کو ہرجانے کے طور 2 ہزار 737 ڈالر ادا کرنے کی ہدایت کی تاہم ان کے وکیل نے آگاہ کیا کہ وہ دونوں سزاؤں کے خلاف اپیل کریں گے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جج نے کہا کہ ‘تھپڑ مارنا جرم کے ذمرے میں آتا ہے تاہم کہنی مارنے کی کوشش جرم نہیں ہے’۔

مزید پڑھیں:چین: سابق انٹیلی جنس چیف کو رشوت لینے پر عمر قید کی سزا

لنلن کونگ کے وکیل بیرسٹر ٹموتھی ریگٹ نے جج کو آگاہ کیا کہ وہ سزا اور جرمانہ دونوں کو چیلنج کریں گی۔

انہوں نے عدالت میں عائد کیے گئے الزامات کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ پہلے بدتمیزی کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2018 میں چینی صحافی لنلن کونگ برمنگھم میں کنزرویٹو پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں ایک مباحثے میں الجھ پڑی تھیں۔