بھارت: ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ریپ

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2019

ای میل

خواتین کے خلاف 2016 کے مقابلے جرائم بڑھ گئے، رپورٹ—فوٹو: اے ایف پی
خواتین کے خلاف 2016 کے مقابلے جرائم بڑھ گئے، رپورٹ—فوٹو: اے ایف پی

بھارتی ریاست تلنگانہ میں 2 روز قبل ’ریپ‘ کے بعد جلائی گئی لیڈی ڈاکٹر پریانکا ریڈی کی ہلاکت کے بعد انڈیا میں ایک بار پھر خواتین پر تشدد اور ’ریپ‘ پر بحث چھڑ گئی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں بھی خطرناک حقائق بیان کیے گئے ہیں۔

بھارتی حکومت کے ادارے ’نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ کیا جاتا ہے۔

این سی بی آر کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس 2016 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔

زیادہ تر خواتین کا ریپ جاننے والے افراد کرتے ہیں،ر پورٹ—فوٹو: اے ایف پی
زیادہ تر خواتین کا ریپ جاننے والے افراد کرتے ہیں،ر پورٹ—فوٹو: اے ایف پی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر ’ریپ‘ کے کیسز تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف 2017 میں بھارت بھر میں 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد خواتین کا ’ریپ‘ اور ’گینگ ریپ‘ ہوا۔

رجسٹرڈ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ اور ہر ایک دن بعد کسی خاتون کا ’گینگ ریپ‘ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر پانچ منٹ کسی نہ کسی خاتون کو اپنا شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتےہیں۔

خواتین پر تشدد کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
خواتین پر تشدد کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں—فوٹو: اے ایف پی

اسی طرح ہر ڈھائی دن بعد بھارت میں کسی نہ کسی خاتون پر تیزاب سے حملہ کردیا جاتا ہے جب کہ ہر 2 گھنٹے بعد کسی نہ کسی خاتون کا ’ریپ‘ یا ’گینگ ریپ‘ کیے جانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: 22 سالہ لڑکی کا ریپ کے بعد قتل، لاش جلادی گئی

رپورٹ کے مطابق ہر ڈھائی دن بعد کسی نہ کسی خاتون کو اسمگل کیا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ’ریپ‘ کا نشانہ بنائی گئی خواتین زیادہ تر جان پہچان والے افراد، رشتہ داروں، دوستوں اور مدد کرنےو الے افراد کی جانب سے نشانہ بنتی ہیں۔

تشدد، بدسلوکی، ہراسانی اور ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین میں 6 سال کی بچیوں سمیت 60 سال تک کی خواتین شامل ہیں جب کہ زیادہ تر ’ریپ‘ اور ’گینگ ریپ‘ کا نشانہ بننے والی خواتین میں نوجوان 24 سے 29 سال کی لڑکیاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف سال 2017 میں ہی بھارت بھر میں 6 سال کی عمر کی 298 بچیوں کو ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال 30 ہزار سے زائد خواتین کا ان افراد نے ’ریپ‘ کیا جنہیں وہ جانتی تھیں اور ان پر اعتبار کرتی تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور ہر طرح کے جنسی ہراسانی کے واقعات میں 97 فیصد ان کے رشتہ دار، دوست، محبت کرنے والے اور جان پہچان والے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

ملازمت کرنے والی اور زیر تعلیم لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد کو بھی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ملازمت کرنے والی اور زیر تعلیم لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد کو بھی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی