ایران: اسموگ کے باعث اسکولز اور یونیورسٹیاں بند

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2019

ای میل

بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی — فوٹو: اے پی
بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی — فوٹو: اے پی

ایران میں فضائی آلودگی کے نتیجے میں اسموگ کی وجہ سے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اسکول اور یونیورسٹیاں بند کردی گئیں۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ہنگامی کمیٹی برائے فضائی آلودگی کے اجلاس کے بعد ڈپٹی گورنر محمد تغیزیدہ نے جمعہ (29 نومبر) کی رات کو تہران میں اسکولز اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی 'ارنا' کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ ’فضائی آلودگی میں اضافے کی وجہ سے صوبہ تہران کے کنڈرگارٹنز، پری اسکولز اور اسکولز، جامعات اور ہائر ایجوکیشن انسٹیٹیوشنز بند رہیں گے‘۔

مزید پڑھیں: نئی دہلی میں بدترین 'اسموگ'، نظام زندگی درہم برہم

ارنا کے مطابق تہران میں سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی تعداد محدود کرنے کے لیے ایک عجیب و غریب ٹریفک اسکیم نافذ کی گئی تھی جبکہ ٹرکوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

ساتھ ہی بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ کھیلوں کی سرگرمیاں بھی معطل کردی گئیں تھیں۔

رپورٹ میں عہدیداران کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا کہ گزشتہ روز ایران کے شمالی صوبے البرز اور وسطی صوبے اصفہان میں بھی اسکول بند رہے۔

علاوہ ازیں تہران کے جنوب میں واقع شہر قم، شمالی جنوبی شہر ارومیہ اور شمال مشرقی شہر مشہد میں بھی اسکول بند رہے۔

علاوہ ازیں تہران کے جنوب میں واقع شہر قم، شمالی جنوبی شہر ارومیہ اور شمال مشرقی شہر مشہد میں بھی اسکول بند رہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں اسموگ سے معمولات زندگی متاثر، سرکاری و نجی اسکولز بند

ایرانی حکومت سے وابستہ ویب سائٹ ایئر ڈاٹ تہران ڈاٹ آئی آر کے مطابق تہران میں ہوا میں مضر ذرات کی اوسط سطح 146 مائیکرو گرامز پر کیوبک میٹر تک پہنچ گئی تھی۔

رواں برس کے آغاز میں سرکاری میڈیا نے وزارت صحت کے عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فضائی آلودگی ایران کے شہروں میں سالانہ 30 ہزار کے قریب اموات کی وجہ بنتی تھی۔

تاہم موسم سرما ہوا کی کمی اور ٹھنڈ کی وجہ سے مضر صحت اسموگ کئی روز تک شہر کو لپیٹ میں لیے رکھتی ہے۔

گزشتہ برس جاری کی گئی عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق تہران میں سب سے زیادہ آلودگی کی وجہ ہیوی ڈیوٹی گاڑیاں، بائیکس، ریفائنریز اور پاور پلانٹس ہیں۔


یہ خبر یکم دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی