بھارت 7 دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے، وزیرخارجہ

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی نے  سری لنکا  کے صدر کو پاکستانی ہم منصب عارف علوی کی جانب سے تہنیتی خط بھی دیا— فوٹو: نوید صدیقی
شاہ محمود قریشی نے سری لنکا کے صدر کو پاکستانی ہم منصب عارف علوی کی جانب سے تہنیتی خط بھی دیا— فوٹو: نوید صدیقی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ سری لنکا کے دوران نومنتخب صدر گوٹابایا راجا پاکسا اور سری لنکن ہم منصب دنیش گوناوردھنے سے ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے وفد کے ہمراہ صدارتی سیکریٹریٹ میں سری لنکا کے نومنتخب صدر گوٹابایا راجا پاکسا سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) جنوبی ایشیا و ترجمان وزارت خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل، سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سینئر حکام بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ موجود تھے۔

وزیر خارجہ نے سری لنکن صدر گو ٹابایا راجا پاکسا کو پاکستان کی قیادت اور عوام کی طرف سے سری لنکا کے ساتویں صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی۔

شاہ محمود قریشی نے سری لنکا کے صدر کو پاکستانی ہم منصب عارف علوی کی جانب سے تہنیتی خط بھی دیا جس انہیں مبارکباد کے ساتھ ساتھ دورہ پاکستان کی دعوت دی گئی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے لیے یہ امر بھی قابل مسرت ہے کہ 70 کی دہائی میں پاکستان سے عسکری تربیت حاصل کرنے والی شخصیت، آج سری لنکا کی صدارت کا منصب سنبھالے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ 2 روزہ سرکاری دورے پر سری لنکا پہنچ گئے

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان اور سری لنکا کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سری لنکا کے عوام نے جس طرح دہشت گردی کے عفریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خشک سالی ہو، سیلاب ہو یا کسی قدرتی آفت کا سامنا ہو پاکستان کے عوام اپنے سری لنکن بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔

ملاقات میں وزیر خارجہ نے سری لنکن صدر کو پاکستان کی جانب شروع کی گئی معاشی سفارت کاری سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ دونوں ممالک کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔

اس موقع پر سری لنکن صدر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سری لنکا آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے، تہنیتی پیغامات اور دورہ پاکستان کی دعوت پر صدر عارف علوی اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

سرلنکن وزیراعظم سے ملاقات

بعد ازاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی وفد کے ہمراہ سری لنکا میں وزیراعظم کے سیکریٹریٹ پہنچے، وفد میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) جنوبی ایشیا اور وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل، سری لنکا میں تعینات قائم مقام پاکستانی ہائی کمشنر سمیت پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ نے سری لنکا کے نئے وزیراعظم میہندا راجاپاکسا سے ملاقات کی۔

دوران ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، خطے کی مجموعی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے وزیراعظم مہیندا راجا پاکسا کو ان کے بطور وزیراعظم تقرر پر وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی عوام کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی جبکہ ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان کی خدمت میں خصوصی خط پیش کیا۔

اس خصوصی خط میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سری لنکن ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ دو طرفہ دوستانہ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جبکہ آپ کے بطور صدر سری لنکا، گزشتہ ادوار میں پاکستان اور سری لنکا کے مابین دو طرفہ تعلقات کی نوعیت مثالی رہی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آپ کے ساتھ مل کر کثیر الجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے متمنی ہیں اور اس حوالے سے ہمیں پوری توقع ہے کہ آپ کی مقبول قیادت میں سری لنکا امن و استحکام اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو گا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سری لنکن وزیراعظم کو پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی ‘معاشی سفارتکاری’ کے خدوخال سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے متعدد مواقع موجود ہیں جن سے دونوں ممالک بھرپور استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر سری لنکا کے وزیراعظم مہیندا راجا پاکسا نے سری لنکا آمد پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھجوائے گئے خصوصی پیغام اور دورہ پاکستان کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

سری لنکن ہم منصب سے ملاقات

بعدازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کولمبو میں سری لنکن ہم منصب دنیش گوناوردھنے سے ملاقات کی اور باہمی تعلقات اور مفادات کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک نے خطے اور بین الاقوامی مععاملات پر ایک دوسرے سے تعاون کیا ہے۔

ملاقات باہمی تعلقات اور باہمی مفادات کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا —فوٹو: ریڈیو پاکستان
ملاقات باہمی تعلقات اور باہمی مفادات کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا —فوٹو: ریڈیو پاکستان

سری لنکن ہم منصب سے ملاقات میں وزیر خارجہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا: صدارتی انتخاب میں سابق صدر کے بھائی کامیاب

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے اقتصادی سفارتکاری کا آغاز کیا ہے، انہوں نے سری لنکن ہم منصب کو تاجر برادری کے وفد کے ہمراہ دورہ پاکستان کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ کیا جاسکے۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔