نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2019

ای میل

نقیب اللہ کے والد کینسر کے مرض میں مبتلا تھے—فائل فوٹو: جبران ناصر ٹوئٹر
نقیب اللہ کے والد کینسر کے مرض میں مبتلا تھے—فائل فوٹو: جبران ناصر ٹوئٹر

کراچی میں سال 2018 میں پولیس مقابلے کے دوران قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان انتقال کرگئے۔ محمد خان انتقال سے قبل تک اپنے بیٹے نقیب اللہ قتل کیس کی پیروی کر رہے تھے۔

اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے کہا کہ محمد خان کینسر سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئے۔

جبران ناصر نے نقیب اللہ کے والد کی آخری رسومات کے حوالے سے لکھا کہ محمد خان کی نماز جنازہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں منگل کی صبح 10 بجے جبکہ ان کے گاؤں مکین میں دوپہر 2 بجے ادا کی جائے گی۔

سماجی کارکن نے لکھا کہ 'وہ بڑے عزم کے ساتھ ایک غیرمعمولی انسان تھے، ہمیں انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا'۔

آرمی چیف کا اظہار تعزیت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سے انصاف کی فراہمی کا جو وعدہ کیا گیا تھا اسے پورا کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

نقیب اللہ کا قتل

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محمد خان کے بیٹا نقیب اللہ ان 4 مشتبہ افراد میں شامل تھا، جنہیں گزشتہ برس کراچی میں سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی جانب سے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں 'انکاؤنٹر' میں مار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ڈان انویسٹی گیشن : راؤ انوار اور کراچی میں ’ماورائے عدالت قتل‘

راؤ انوار کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارے گئے افراد کا تعلق کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے تھا لیکن اس کالعدم تنظیم کے جنوبی وزیرستان چیپٹر کے ترجمان نے راؤ انوار کے اس دعوے کو 'بے بنیاد' قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ نقیب اللہ کا ان کی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ نقیب اللہ کے اہل خانہ نے بھی سابق ایس ایس پی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے 27 سالہ بیٹے کا کسی عسکری تنظظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

نقیب اللہ جن کا شناختی کارڈ پر نام نسیم اللہ تھا ان کے بارے میں ایک رشتے دار نے ڈان کو بتایا تھا کہ نقیب دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا بہت شوق تھا۔

اس تمام معاملے پر عدالت عظمیٰ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے ازخود نوٹس بھی لیا گیا تھا جبکہ جنوری میں کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ اور دیگر 3 لوگوں کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے چاروں افراد کے خلاف درج مقدمات کو خارج کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نقیب اللہ قتل کیس: 'اہم چشم دید گواہ کو لاپتا کردیا گیا'

بعد ازاں مارچ میں اے ٹی سی نے جعلی انکاؤنٹر میں نقیب اللہ قتل کیس میں راؤ انوار اور 17 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

تاہم اس کیس میں راؤ انوار سمیت سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قمر ضمانت پر ہیں جبکہ دیگر آٹھ ملزمان اس کیس میں جیل میں ہیں، اس کے علاوہ سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت اور شعیب شیخ اس کیس میں مفرور ہیں۔