چونیاں کیس: ملزم کا ٹرائل جیل میں شروع، فرد جرم کیلئے تاریخ مقرر

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2019

ای میل

ملزم سہیل شہزاد نے اعتراف جرم کرلیا تھا — فائل/فوٹو:ڈان نیوز
ملزم سہیل شہزاد نے اعتراف جرم کرلیا تھا — فائل/فوٹو:ڈان نیوز

پنجاب کے ضلع قصور کے علاقے چونیاں میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کے واقعات پر دائرے مقدمات کی سماعت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں شروع ہوگئی جبکہ ملزم سہیل شہزاد پر فرد جرم 9 دسمبر کو عائد کردی جائے گی۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اقبال نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کی

انسداد دہشت گردی عدالت میں پیروی کے لیے تین رکنی پراسکیوشن ٹیم ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عبدالرؤف وٹو کی سربراہی میں میں کوٹ لکھپت جیل پہنچی۔

مزید پڑھیں:چونیاں زیادتی کیس: زیر حراست ملزم سہیل کا اعتراف جرم

ڈپٹی پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو کا کہنا تھا کہ مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران ملزم سہیل شہزاد کو چالان کی کاپیاں فراہم کردی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی خدشات کے باعث ملزم کے خلاف مقدمے کی کارروائی جیل میں کی جارہی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزم سہیل شہزاد پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 9 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی اور سماعت ملتوی کردی۔

اس سے قبل قبل زینب قتل کیس کی سماعت بھی کوٹ لکھپت جیل میں ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے یکم اکتوبر کو چونیاں میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا اور پولیس نے 2 اکتوبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزم کو پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:چونیاں میں بچوں کا ریپ،قتل: عثمان بزدار کا ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت سے ملزم کو مجموعی طور پر تین مرتبہ جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جبکہ ملزم نے جرم کا اعتراف بھی کیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کو 4 میں سے ایک بچے کے قتل اور جنسی استحصال کے الزام پر درج ایف آئی آر پر عدالت میں پیش کیا گیا ہے جبکہ دیگر 3 بچوں سے متعلق درج مقدمات میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہزار 668 افراد کے ڈی این اے کروائے گئے تھے جن میں سے ملزم سہیل شہزاد کا ڈی این اے مقتول سے میچ ہوا۔

واضح رہے کہ چونیاں کے علاقے رانا ٹاون کے رہائشی سہیل شہزاد پر چار بچوں کے ساتھ بدفعلی کرکے انہیں قتل کرنے کا الزام ہے۔

رواں سال جون میں 8 سے 12 سال کی عمر کے 4 بچے لاپتہ ہوگئے تھے جبکہ 16 ستمبر کی رات کو 8 سالہ فیضان لاپتہ ہوا تھا، ان میں سے 3 بچوں کی لاشیں 17 ستمبر کو چونیاں بائی پاس کے قریب مٹی کے ٹیلوں سے ملی تھیں۔

مزید پڑھیں:چونیاں واقعہ: ملزم سہیل شہزاد کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

بعد ازاں 6 نومبر کو گرفتار ملزم سہیل شہزاد نے دوران تفتیش اعتراف جرم کر لیا تھا جس کے بعد ان کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا۔

پولیس نے پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو کے ذریعے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ملزم کا 164 کا بیان ریکارڈ کرانا ہے لہٰذا ملزم کو چونیاں میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

انسداد دہشت گری عدالت نے ملزم سہیل شہزاد کو چونیاں لے جاکر بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت دی، جس کے بعد ملزم کو چونیاں کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا جہاں ملزم کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔