واجبات اور ناقص ڈیزائن کے باعث سی پیک پر کام تاخیر کا شکار

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2019

ای میل

مغربی روٹ کا منصوبہ 110 ارب ڈالر کا ہے—فائل فوٹو: اے پی
مغربی روٹ کا منصوبہ 110 ارب ڈالر کا ہے—فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم مغربی روٹ، جسے رواں ماہ مکمل ہوجانا تھا وہ حکام کی کوتاہی کا شکار ہوگیا ہے اور واجبات کی عدم ادائیگی اور کچھ تکنیکی وجوہات کے باعث 110 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام تعطل کا شکار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) جو اس منصوبے کی عملدرآمد کروانے والی ایجنسی ہے، اس نے شکایت کی تھی کہ حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختص کیے گئے تمام فنڈ جاری نہیں کیے کیونکہ وزارت خزانہ نے انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اتھارٹیز کے ذریعے حاصل کردہ 15 کھرب روپے کے قرض پر سود کی وصولی کے لیے اس میں کمی کی۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت نے ’سی پیک اتھارٹی‘ کے آرڈیننس پر دستخط کردیے

سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ واجبات کی عدم ادائیگی اور ناقص ڈیزائن کی وجہ سے ٹھیکیدار نے مغربی روٹ کے 7 حصوں میں سے دو پر حصوں (4 اور 5) پر کام روک دیا تھا۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ مکمل مغربی روٹ پر 60 فیصد سے زائد کام مکمل ہوگیا ہے لیکن مجموعی لاگت 110 ارب روپے کے بجائے 11 ارب 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹھیکیدار نے سیکشن 4 پر 90 فیصد سے زائد کام مکمل کرلیا اور وہ مقررہ تاریخ سے پہلے سیکشن مکمل کرکے (منصوبے کی لاگت کا 5 فیصد) انعام جیتنا چاہتا تھا۔

اس کے علاوہ 6 کلومیٹر طویل پہاڑی حصے میں ٹھیکیدار کو 'ناقص' ڈیزائن کی وجہ سے 18 فٹ گہرائی میں ایک پہاڑ کاٹنا پڑا جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی پتھر کاٹنے کے لیے رقم کی ادائیگی کے لیے تیار نہیں تھی، جس کے باعث وہ نامکمل منصوبہ چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔

دریں اثنا جہاں تک سیکشن 5 پر کام کی صورتحال کا تعلق ہے تو وہاں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے۔

سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقریباً ایک سال قبل منصوبے پر 60 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا لیکن فنڈز کی عدم ادائیگی اور 'سیاسی عزم' کی کمی کے باعث منصوبہ غیرفعال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عاصم سلیم باجوہ 'سی پیک اتھارٹی' کے چیئرپرسن مقرر، نوٹی فکیشن جاری

اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کے رکن سینیٹر احمد خان کا کہنا تھا کہ کام میں تاخیر کی بڑی وجہ واجبات کی عدم ادائیگی ہے کیونکہ یہ منصوبہ دسمبر 2019 میں مکمل ہونا تھا۔

انہوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اگر ٹھیکیدار کو فنڈز جاری نہیں کیے جاتے تو منصوبہ مزی ایک یا دو سال کے لیے تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر این ایچ اے اور دیگر وزارتوں کو 'مزید فنڈز' جاری کیے جارہے ہیں۔