اراکین الیکشن کمیشن کے نام کا اعلان کل کیے جانے کا امکان

اپ ڈیٹ 03 دسمبر 2019

ای میل

اراکین کے ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ دوبارہ عدالت میں جانے کا امکان ہے — فائل فوٹو: ٹوئٹر
اراکین کے ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ دوبارہ عدالت میں جانے کا امکان ہے — فائل فوٹو: ٹوئٹر

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اراکین کے تقرر کے لیے اپوزیشن نے مشاورت کے لیے مزید وقت طلب کرلیا تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کل تک ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

12 رکنی کمیٹی میں حکومت اپوزیشن کے اراکین کی تعداد برابر ہے جس کے پاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے سندھ اور بلوچستان کے رکنِ الیکشن کمیشن کے لیے کل 12 نام بھجوائے گئے تھے جن میں 6 نام وزیراعظم جبکہ 6 نام قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے تجویز کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف نے الیکشن کمیشن عہدیداران کے نام وزیراعظم کو ارسال کردیے

وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے جسٹس (ر) صادق بھٹی، جسٹس (ر) نورالحق قریشی اور عبدالجبار قریشی کے نام دیے جبکہ رکنِ بلوچستان کے لیے ڈاکٹر فیض محمد کاکڑ، میر نوید جان بلوچ اور امان اللہ بلوچ کے نام تجویز کیے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے رکنِ سندھ کے لیے نثار درانی، جسٹس (ر) عبدالرسول میمن اورنگزیب حق کا نام تجویز کیا جبکہ بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی ایڈووکیٹ، سابق ایڈووکیٹ جنرل محمد رؤف عطا اور راحیلہ درانی کے نام دیے گئے۔

اجلاس کے بعد ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کی چیئر پرسن شیریں مزاری نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے مابین اراکین الیکشن کمیشن کے ناموں پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ دونوں جانب سے تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے جس کے بعد کل (4 نومبر کو) 2 بجے دوبارہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے الیکشن کمیشن اراکین کے لیے 3،3 نام تجویز کردیئے

اجلاس کے بعد ذرائع نے بتایا کہ اراکین الیکشن کمیش کے لیے ایک رکن حکومت کا نامزد کردہ جبکہ دوسرا رکن اپوزیشن کی تجویر پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے رکنِ بلوچستان کے لیے وزیراعظم کے نامزد کردہ نوید جان بلوچ کے نام پر اتفاق کیا جس کے بعد اب امکان ہے کہ رکنِ سندھ کا تقرر اپوزیشن کی تجویز پر کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی میں اختلاف

دوسری جانب اراکین الیکشن کمیشن کے ناموں پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان اختلاف رائے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی رکن سندھ کے لیے اپنے امیدوار کی تعیناتی کے لیے کوشاں ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) سندھ اور بلوچستان دونوں سے اپنے امیدوار کو کامیاب کروانا چاہتی ہے۔

بعد ازاں اختلاف رائے دور کرنے کے لیے اپوزیشن نے کمیٹی سے مشاورت کا وقت مانگتے ہوئے کل تک جواب دینے کی یقین دہانی کروائی۔

واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اراکین کے ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ دوبارہ عدالت میں جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس میں پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کے متفقہ موقف سے متعلق حکمت عملی مرتب کی گئی۔

کچھ لو اور دو پر کام ہورہا ہے، رہنما مسلم لیگ (ن)

اپوزیشن کے اجلاس سے قبل بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ نے بتایا تھا کہ آج کے اجلاس میں کوشش کررہے ہیں اراکین کے نام پر اتفاق رائے ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن اراکین کا تقرر 45 دن کی آئینی مدت میں نہ ہوسکا

ان کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ تجربہ کار اور قابل امیدواروں کو الیکشن کمیشن اراکین کے عہدوں پر چنا جاسکے جس کے لیے ہم ایسے امیدوار کا انتخاب کریں گے جو اپنا کام بخوابی سرانجام دے سکے اور سب کے لیے قبل قبول ہو۔

مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ سیاست کچھ لو اور کچھ دو کا نام ہوتا ہے لہٰذا کچھ لو اور دو پر کام ہورہا ہے۔

کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا، مرتضیٰ جاوید

دوسری جانب قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضٰی جاوید عباسی نے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تمام امیدواروں کی سی ویز پر غور جاری ہے اور کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے سندھ اور بلوچستان کے لیے اپوزیشن اور حکومت ایک ایک نام پر متفق ہوجائیں۔

انہوں نے اس دعوے کی تردید کی کہ الیکشن کمیشن رکن کے لیے ایک نام پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کمیٹی غور و خوض جاری رکھے ہوئے ہے اور تاحال کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا۔

مرتضیٰ عباسی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو غیر فعال ہونے میں 2 دن رہ گئے ہیں تو اب حکومت کو اراکین کا تقرر یاد آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اراکین الیکشن کمیشن کا تقرر حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جس میں اپوزیشن اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

ناموں پر اتفاق کی اطلاعات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سب غلط اطلاعات ہیں ابھی تک کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا۔

مشاورتی اجلاس طلب

اس ضمن میں پی پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اہم ترین ادارے کا معاملہ ہے، اس پر سوچ بچار جاری ہے، اہم ترین ادارے کے ممبران کا انتخاب کرنا ہے اس لیے یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔

مزید پڑھیں: چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت کے مقرر کردہ اراکین سے حلف لینے سے انکار

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے سامنے صرف ایک مقصد ہے کہ میرٹ پر انتخاب کیا جائے اور ایسا شخص ہو، جو اس ادارے کے لیے باعث تکریم ہو۔

پارلیمانی کمیٹی کے بعد پی پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، مرتضی جاوید عباسی اور مشاہد اللہ خان سے مشاورت کی۔

اس دوران احسن اقبال نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے رابطہ کر کے کمیٹی کی کارروائی سے انہیں آگاہ کیا۔

بعدازاں جمعرات کو ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے مشاورتی اجلاس طلب کرلیا جس میں اپوزیشن رہنما الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی پر حتمی مشاورت کریں گے۔

اراکین الیکشن کمیشن کے تقرر کا معاملہ

خیال رہے کہ الیکشن کیمشن آف پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے اراکین جنوری میں ریٹائر ہوئے تھے اور آئین کے مطابق ان عہدوں پر 45 دن میں اراکین کا تقرر ہوجانا چاہیے تھا تاہم اپوزیشن اور حکومت کے اختلافات کے باعث نہ ہوسکا۔

بعدازاں اگست میں صدر مملکت عارف علوی نے الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر کردیا تھا تاہم ان کے اس اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مذکورہ معاملہ پارلیمنٹ کو ارسال کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو ہدایت کی تھی کہ اسے حل کروائیں اور الیکشن کمیشن کو غیر فعال ہونے سے روکیں۔