چین نے پاکستانی لڑکیوں سے 'جعلی شادیوں' سے متعلق غیر ملکی رپورٹ مسترد کردی

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2019

ای میل

چینی سفارت خانہ نے کہا کہ سفارت خانے نے بین الاقوامی شادیوں پر ایک واضح موقف اپنایا ہے —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
چینی سفارت خانہ نے کہا کہ سفارت خانے نے بین الاقوامی شادیوں پر ایک واضح موقف اپنایا ہے —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

پاکستان میں چین کے سفارتخانے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس (اے پی) کی خبر کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی فرد یا تنظیم پاکستان میں بین الاقوامی شادیوں کی آڑ میں جرم کرتا ہے تو بیجنگ اور اسلام آباد اپنے قوانین کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ 4 دسمبر کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سے کم از کم 629 لڑکیوں کو دلہن بنا کر چین میں فروخت کیا گیا۔

مزید پڑھیں: فیصل آباد: پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کا آغاز کس طرح ہوا؟

اس ضمن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے ان خبروں کا جائزہ لیا ہے، یہ پرانی خبریں ہیں جو درست نہیں۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ سفارت خانے نے بین الاقوامی شادیوں پر ایک واضح موقف اپنایا ہے۔

علاوہ ازیں ترجمان نے کہا کہ چینی حکومت قانونی شادیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ چینی حکومت ایسے تمام جرائم سے نبرد آزما ہو گی جبکہ دونوں حکومتوں کے باہمی تعاون سے غیر قانونی شادیوں اور جوڑے بنانے پر موثر قابو پایا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ چینی وزارت برائے عوامی تحفظ کے مطابق چینی باشندوں سے شادی کے بعد چین میں رہنے والی خواتین کو جبری جسم فروشی اور ان کے اعضا کو فروخت نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: جعلی شادیوں کا ایک اور کیس، ایف آئی اے نے مزید 3 چینی باشندوں کو گرفتار کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے نے پہلے بھی ان الزامات کی تردید کی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ چینی حکومت نے پاکستان میں قانون کے نفاذ پر تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ایک ٹاسک فورس پاکستان بھیجی ہے اور یہ ٹاسک فورس ایسی سرگرمیوں کے خلاف بہت موثر ثابت ہوئی۔

انہوں نے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خبر کے مقاصد انتہائی مشکوک ہیں تاہم ہم چند جرائم پیشہ عناصر کو پاک چین دوستی کو کمزور کرنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کو دونوں ممالک کے عوام میں موجود احساس دوستی کو تکلیف پہنچانے نہیں دی جائے گی اور امید کرتے ہیں کہ میڈیا رپورٹس حقائق سے سچائی معلوم کر کے با مقصد بنائی جائے۔

اے پی رپورٹ کا دعویٰ

واضح رہے کہ اے پی نے اپنی رپورٹ میں ایک سینئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ تمام 629 شادیوں میں اہل خانہ نے اپنی بیٹیوں کو چین باشندوں کو فروخت کیا۔

ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا گیا تھا کہ چینی اور پاکستانی بروکرز ایک دلہن کے بدلے 40 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے کے درمیان کماتے ہیں جبکہ لڑکی کے اہل خانہ کو صرف 2 لاکھ روپے دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر میں پاکستان کی تفتیشی ایجنسی نے وزیر اعظم عمران خان کو 'جعلی چینی شادیوں کے مقدمات' کے عنوان سے ایک رپورٹ بھیجی۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی اسمگلنگ کے الزامات میں 11 چینی باشندے ایف آئی اے کے حوالے

اس رپورٹ میں 52 چینی شہریوں اور ان کے 20 پاکستانی ساتھیوں کے خلاف فیصل آباد، لاہور اور اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔

چینی مشتبہ افراد کی تعداد 31 تھی جنہیں بعد میں عدالت نے بری کردیا تھا۔

علاوہ ازیں ایسوسی ایٹ پریس نے دعویٰ کیا کہ اس گورکھ دھندے میں مسیح برادری کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلم اکثریتی پاکستان میں غریب ترین برادری میں سے ایک ہے۔

اے پی کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ اس معاملے میں مسیح وزرا بھی شامل تھے۔