کراچی: دعا منگی کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا، پولیس

06 دسمبر 2019

ای میل

دعا کے اہل خانہ، وکلا ، طلبہ و دیگر افراد نے مظاہرہ بھی کیا—فائل فوٹو: ٹوئٹر
دعا کے اہل خانہ، وکلا ، طلبہ و دیگر افراد نے مظاہرہ بھی کیا—فائل فوٹو: ٹوئٹر

کراچی: شہر قائد کے پوش علاقے سے اغوا کی گئی قانون کی طالبہ کے کیس میں پولیس کا ماننا ہے کہ دعا منگی کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ڈی ایچ اے میں بخاری کمرشل سے ایک نوجوان خاتون کو اغوا کرلیا گیا تھا جبکہ ان کے 'دوست' حارث فتح سومرو کو زخمی کردیا گیا تھا۔

اس معاملے پر ڈی آئی جی ساؤتھ زون شرجیل کھرل کا کہنا تھا کہ 'یہ ظاہر ہوا ہے کہ یہ اغوا برائے تاوان کا کیس ہے'، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ طالبہ کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

مزید پڑھیں: کراچی: ڈی ایچ اے میں لڑکی کے اغوا کا معاملہ حل نہیں ہوسکا

یاد رہے کہ ڈی آئی جی جنوبی اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی مختلف پولیس ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے اور اب تک 12 سے زائد افراد سے سوالات کیے گئے۔

پولیس کے بیان کے مطابق سٹیزن پولیس لائیژن کمیٹی اور پولیس ماضی کے اغوا کے کیس کے تناظر میں معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: دعا منگی اغوا کے خلاف احتجاج، پولیس کا پیش رفت کا دعویٰ

خیال رہے کہ مئی میں ایک لڑکی بسمہ کو ڈی ایچ اے سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ مبینہ طور پر تاوان کی ادائیگی کے بعد گھر آگئی تھی۔

علاوہ ازیں دعا منگی کی باحفاظت واپسی کے لیے وکلا اور سول سوسائٹی کے اراکین، ایس ایم لا کالج کے طلبہ اور لڑکی کے رشتے داروں کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔

دعا کے کزن کینجھر سندھو نے میڈٰیا کو بتایا کہ کئی دن گزرچکے ہیں لیکن انتظامیہ دعا کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہیں۔


یہ خبر 06 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی