بارھویں عالمی اردو کانفرنس: دوسرے روز زبان و ادب پر سیشن

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2019

ای میل

رشید حسن خان مرحوم کی کتاب گنجینہ معنی کا طلسم پر بھی تبصرہ پیش کیا گیا—فوٹو:آرٹس کونسل فیس بک
رشید حسن خان مرحوم کی کتاب گنجینہ معنی کا طلسم پر بھی تبصرہ پیش کیا گیا—فوٹو:آرٹس کونسل فیس بک

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام بارھویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز نثر اور شعر سمیت اردو کی دیگر اصناف پر مختلف نشستیں ہوئیں اور معروف شاعر انور مسعود نے بھی حاضرین کو اپنی مزاحیہ شاعری سے محظوظ کیا۔

آرٹس کونسل کراچی میں جاری بارھویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز ‘شعر و سخن کا عصری تناظر’ کے عنوان سے سیشن سے ہوا جس میں محققین اور مبصرین نے جدید نظم، غزل اور شعری تناظر کے حوالے سے اندیشے اور امکانات اور اردو شاعری اور پاکستانی بیانیہ پر مقالات پڑھے۔

دوسرا سیشن نماز جمعہ کے وفقے کے بعد ہوا جو ‘عصر حاضر میں نعتیہ اور رثائی ادب پر ایک جائزہ’ کے عنوان سے تھا اور اس کی صدارت معروف شاعر افتخار عارف، مشہور نقاد و محقق تحسین فراقی اور ہلال نقوی نے کی۔

دوسرے سیشن میں نعت اور مرثیے کی روایت اور موجودہ صورت حال پر گفتگو کی گئی اور اردو میں نعت اور مرثیے کی روایت کو عربی و فارسی سے مستحکم قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر بیٹھے تیاری کیسے کی جائے؟

کتابوں کی رونمائی تیسرے سیشن میں ہوئی جس کی نظامت ڈاکٹر اوج کمال نے کی اور اس سیشن میں اردو زبان کے مشہور محقق اور ماہر لسانیا رشید حسن خان مرحوم کی کتاب گنجینہ معنی کا طلسم پر مبین مرزا نے تبصرہ پیش کیا اور اس موقع پر تحسین فراقی بھی تشریف فرما تھے جنہوں نے اس کتاب کو پاکستان سے شائع کیا۔

تیسرے سیشن میں اصغر ندیم سید کے ناول ٹوٹی ہوئی طناب ادھر، شاعر صابر ظفر کی کتاب آواز کی لہر اور فاطمہ حسن کی کتاب فاصلوں سے ماورا پر بھی تبصرہ کیا گیا۔

کراچی آرٹس کونسل میں دوسرے روز بیک وقت دو سیشن بھی ہوئے جہاں کشور ناہید سے ملاقات کے علاوہ بلوچستان اور پختون ثقافت کے حوالے سے سیشنز منعقد ہوئے۔

اردو کی نئی بستیاں کے عنوان سے دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین نے اپنے مقالے پڑھے اور گفتگو کی اس کے علاوہ صحافی حامد میر نے ‘کیا اردو ادب اور صحافت زوال کا شکار ہے’ کے عنوان پر آرٹس کونسل کے لان میں بڑی تعداد میں موجود شرکا کے سامنے عاصمہ شیرازی کی میزبانی میں گفتگو کی جبکہ محمد حنیف کے انگریزی ناول کے اردو ترجمے پر پھٹنے آموں کا کیس پر شرکا نے گفتگو کی۔

دور حاضر کے مشہور شاعر انور مسعود کے ساتھ سیشن ہمیشہ کی طرح یاد گار رہا، انہوں نے اپنی شیریں بیانی اور مزاحیہ شاعری سے لوگوں کے دل جیت لیے، انہیں سننے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد آرٹس کونسل میں موجود تھی۔

دوسرے روز فیض احمد فیض اور ضیا محی الدین کی زندگی اور کارہائے نمایاں پر دستاویزی فلم ‘کوئی عاشو کسی محبوب سے’ پیش کی گئی۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی سیشن میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر کراچی پہنچے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر سردار شاہ سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین اور دانشوروں نے شرکت کی تھی جبکہ آرٹس کونسل ادب دوستوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔

عالمی اردو کانفرنس کے پہلے روز مرزا غالب کی شاعری پر سیشن ہوئے تھے جہاں تحسین فراقی اور نعمان الحق نے مقالہ پڑھا تھا اور اس سیشن کی صدارت بھارت کے مشہور محقق شمیم حنفی نے کی تھی جس کے بعد غالب بزبان ضیا محی الدین سیشن ہوا تھا۔

کانفرنس کراچی آرٹس کونسل میں 8 دسمبر تک جاری رہے گی اور زبان و ادب اور جدید رجحانات پر سیشنز منعقد ہوں گے۔