مقبوضہ کشمیر میں انسانی صورتحال سنگین ہورہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2019

ای میل

ڈاکٹر محمد فیصل نے دفتر خارجہ میں  ہفتہ وار بریفنگ دی—فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈاکٹر محمد فیصل نے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں 126 روز سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث انسانی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بدترین لاک ڈاؤن نے لاکھوں کشمیریوں کے زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے 80 لاکھ سے زائد کشمیری عوام دنیا سے کٹے ہوئے ہیں جبکہ طبی اشیا کے فقدان اور بنیادی ضرورت کی اشیا کے حوالے سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے مذمت کے باوجود بھارت کے غیر انسانی اور یکطرفہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ کی کرتارپور سے متعلق بھارتی میڈیا کی رپورٹس کی مذمت

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن نافذ کر کے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔

مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باعث خدشہ تھا کہ اشیائے خوراک اور طبی اشیا کی کمی پیدا ہوجائے گی، اس کے علاوہ بھارت کی حمایت کرنے والے سیاسی رہنماؤں سمیت 13 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت فوری طور پر مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بحال کرے اور تمام قیدیوں کو رہا کرے بالخصوص سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوانوں کو رہا کیا جائے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے مطالبہ کیا کہ بھارت پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر غاصبانہ قوانین کا خاتمہ کرے اور آزاد میڈیا اداروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو خطے کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ خود کشمیری عوام کی صورتحال جان سکیں۔

مزید پڑھیں: الطاف حسین کے بھارتی چینل کو انٹرویو پر جلد جواب دیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ

اس کے علاوہ انہوں نے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ عالمی قوانین اور قراردادوں کے برخلاف کشمیری عوام کے مذہبی حقوق کی پامالی کی مذمت کریں۔

بھارت اور جاپان کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ سفارتی چینلز کے ذریعے اس بیان پر 'مایوسی اور تحفظات‘ سے جاپان کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ اعلامیے میں مبینہ طور پر پاکستان میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات کا ذکر کیا گیا تھا اور انہیں دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے اور بین الاقوامی وعدوں بشمول ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر عمل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ جاپان کو علم ہے کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان نے کتنی قربایاں دیں اور کس قدر مشکلات کا سامنا کیا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہماری کوششوں کا جاپانی وزیر دفاع نے بحیثیت وزیر خارجہ دورہ پاکستان میں اس کا اعتراف کیا تھا۔

وزیر اعظم کا دورہ ملائیشیا

ادھر سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی نے رپورٹ کیا کہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم عمران خان پہلے گلوبل رفیوجی فورم میں شرکت کیلئے 17 اور 18 دسمبر کو جینیوا جبکہ اپنے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد کی دعوت پر کوالالمپور سمٹ میں شرکت کی غرض سے 18 سے 20 دسمبر تک ملائیشیا کا دورہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کوالالمپور میں مسلم امہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

انہوں نے کہا کہ کے ایل سمٹ پاکستان کو امت مسلہ کو درپیش چیلنجوں بالخصوص گورننس، ترقی، سیاحت اور اسلاموفوبیا جیسے مسائل کا حل نکالنے اور اس حوالہ سے اپنا نکتہ پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔

سمٹ میں 5 مسلم ممالک پاکستان، انڈونیشیا، ترکی قطر اور میزبان ملائیشیا کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں جس کا مقصد سماجی و اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے تعاون میں تیزی لانا ہے۔