حکومت کے قرضوں میں 410 ارب روپے تک کا اضافہ

07 دسمبر 2019

ای میل

اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعداد و شمار جاری کیے گئے—فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز
اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعداد و شمار جاری کیے گئے—فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز

کراچی: مالی سال 20-2019 کے پہلے 4 ماہ کے دوران مرکزی حکومت کا قرض 410 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے ایک ہزار 627 ارب روپے سے 74.8 فیصد کم ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے آخر تک مرکزی حکومت کا قرضوں کا اسٹاک 321کھرب 97 ارب روپے تھا جو رواں سال جون میں 317 کھرب 87 ارب روپے پر موجود تھا۔

مزید پڑھیں: گزشتہ حکومتوں کا 2.1 ارب ڈالر قرض ادا کر دیا، مشیر خزانہ

علاوہ ازیں اگر اکتوبر 2018 کے یہی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو یہ 258 کھرب 39 ارب روپے تھا جبکہ گزشتہ سال کے جون میں یہ رقم 242 کھرب 12 ارب روپے تھی۔

دوسری جانب 4 ماہ کے اسی عرصے کے دوران بیرون قرض میں کمی آئی اور یہ 396 ارب روپے تک ہوکر جون کے 110 کھرب 55 ارب روپے کے مقابلے میں اکتوبر کے اختتام تک 106 کھرب 59 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 5 ہزار ارب قرض لیا مگر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی، احسن اقبال

حکومت کی جانب سے حال ہی میں اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کو روک دیا گیا ہے اور وہ اپنی مالی فرق کو پورا کرنے کے لیے شیڈول بینکوں پر بڑے پیمانے پر انحصار کررہی۔

مزید برآں زیرجائزہ مدت کے دوران اس میں وفاقی حکومت کے بانڈز کے ذریعے 10 کھرب 84 ارب روپے اضافہ اور یہ اکتوبر کے اختتام پر 122 کھرب 67 ارب روپے کی مجموعی رقم تک پہنچ گئی جو 30 جون تک 111 کھرب 83 ارب روپے تھی۔


یہ خبر 07 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی