میں ہی تمہارے جیسے ’چوزے‘ کے لیے کافی ہوں، ارمینہ خان

09 دسمبر 2019

ای میل

اداکارہ نے بھی تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیا—فوٹو: ٹوئٹر
اداکارہ نے بھی تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیا—فوٹو: ٹوئٹر

اداکارہ و ماڈل ارمینہ خان کا شمار انڈسٹری کی ان باہمت شخصیات میں ہوتا ہے جو خواتین و بچوں کی حفاظت کے لیے سوشل میڈیا پر متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

ارمینہ خان جہاں سوشل میڈیا پر خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں، وہیں وہ سماج میں صنفی تفریق، جرائم کی روکتھام اور مذہب کو غلط استعمال کرنے کے خلاف بھی آواز اٹھاتی دکھائی دیتی ہیں۔

چند دن قبل ارمینہ خان نے ملک میں کم عمر بچیوں اور خواتین کے بڑھتے ’ریپ‘ اور ’جنسی ہراسانی‘ کے واقعات کے بعد ٹوئٹر پر ایک پوسٹ کی، جس میں انہوں نے خواتین کو اپنی حفاظت کرنے کے چند طریقے بتائے۔

ارمینہ خان نے 6 دسمبر کو ایک ٹوئٹ میں متعدد اینیمیٹڈ تصاویر دے کر کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے وقت اپنی حفاظت کرنے کے چند طریقے بتائے۔

اداکارہ نے اینیمیٹڈ تصاویر کے ذریعے خواتین کو سمجھایا کہ اگر کوئی مرد ان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کس طرح اپنی حفاظت کر سکتی ہیں۔

اداکارہ نے تصاویر کے ذریعے خواتین کو سمجھایا کہ کسی بھی مرد کی جانب سے جسمانی طور پر نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش یا ریپ کی کوشش کے دوران وہ آسان سے چند طریقے استعمال کرکے اپنی حفاظت کر سکتی ہیں۔

اداکارہ کی اس ٹوئٹ پر جہاں کئی لوگوں نے ان کی تعریف کی، وہیں بعض افراد نے ارمینہ خان کی بات پر برا بھی منایا اور ان کے خلاف سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔

اداکارہ نے ایک اور ٹوئٹ میں کسی لڑکے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ لڑکے نے انہیں جواب دیا ہے کہ 99 فیصد خواتین خود مردوں کو ’ریپ‘ کی دعوت دیتی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا ہے اور وہ بھی ان کی دنیا میں فٹ نہیں بیٹھتیں۔

اداکارہ کی اسی ٹوئٹ پر ایک اور شخص نے جواب دیا اور کہا کہ لڑکے نے درست کہا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ لڑکے اتنے بھی چالو نہیں ہوتے۔

اسی شخص نے مزید لکھا کہ وہ لڑکے ہوکر بھی ان چیزوں کے نام نہیں لیتے جس کے نام ارمینہ خان لے رہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اداکارہ کے لیے سخت الفاظ لکھے کہ اگر ان کے والد اور بھائی نے کسی کا ریپ نہیں کیا ہوگا تو ان کا بھی ’ریپ‘ نہیں ہوگا۔

ارمینہ خان اس کے جواب میں لکھا کہ تین سالہ جنت اور 6 سالہ زینب کے والدین اور بھائیوں نے ’ریپ‘ کیے تھے؟

اداکارہ کے اسی جواب پر مذکورہ شخص نے ارمینہ خان کو مشورہ دیا کہ وہ جاکر پہلے اپنے والد اور بھائی کو لیکچر دیں۔

جس پر اداکارہ نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے والد اور بھائی کو اس معاملے میں لانے کی ضرورت نہیں، ’وہ ہی ان جیسے چوزوں کے لیے کافی ہیں‘۔

اداکارہ نے مزید لکھا کہ وہ باکسر ہیں اور وہ انہیں ایسی پھینٹی لگائیں گی کہ انہیں ان کا دادا یاد آجائے گا۔

ارمینہ خان نے مذکورہ شخص پر واضح کرتے ہوئے لکھا کہ ’وہ انہیں دھمکی دے کر ڈرانے کی کوشش نہ کریں‘ اور ساتھ ہی انہوں نے پنجابی و اردو زبان کا ملا جلا جملہ لکھا کہ ’ایڈا تو ٹوئٹر کا رکھوالا‘۔

اسی طرح ارمینہ خان کی خواتین کو اپنی حفاظت کی ترغیب دینے والی پوسٹ پر کئی دیگر افراد نے بھی کمنٹس کیے اور زیادہ تر افراد نے اداکارہ کی کاوش کو سراہا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایسی فضول زبان استعمال کرنے والے افراد کی باتیں دل پر نہ لیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on