خطے کی معاشی ترقی کیلئے افغانستان میں استحکام ضروری ہے، وزیرخارجہ

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2019

ای میل

وزیرخارجہ نے استنبول میں معقدہ اجلاس میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو دہرایا—فوٹو:دفترخارجہ
وزیرخارجہ نے استنبول میں معقدہ اجلاس میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو دہرایا—فوٹو:دفترخارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خطے کی معاشی ترقی کے لیے محفوط اور مستحکم افغانستان کا مقصد حاصل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اجلاس میں بھارتی وزیر کی تقریر کا احتجاجاً بائیکاٹ کردیا۔

ترکی کے شہر استبنول میں منعقدہ 'ہارٹ آف ایشیا' کے وزرا کے آٹھویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان سے تاریخی تعلقات کا دعویٰ اور ایک مستحکم افغانستان کی خواہش پاکستان سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے بدستور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور پڑوسی ملک کے اندر ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جس میں ایک ارب ڈالر کا ترقیاتی تعاون بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک۔چین۔افغان وزرائے خارجہ کا اجلاس: 5 نکاتی معاہدے پر اتفاق

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے لیے افغانستان-پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈریٹی (اے پی اے پی پی ایس) ایک اہم ادارہ جاتی فریم ورک ہے۔

افغانستان میں امن کے قیام کی پاکستانی خواہش کو دہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے شروع ہونے والی حالیہ کوششیں ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن کا عمل اندرونی مذاکرات کے ذریعے نتیجہ خیز بنایا جائے۔

وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں خبردار بھی کیا کہ کسی کو بھی اپنے مفادات کے لیے اس عمل کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ خطے اور عالمی سطح پر اتفاق رائے کرتے ہوئے افغانستان میں امن کے حصول کو کامیاب بنایا جائے۔

مزید پڑھیں:پاکستان افغان پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تربیت کرےگا، وزیرخارجہ

دفترخارجہ کے بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے امریکی قائم اسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز سے بھی غیر رسمی ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیرخارجہ اور امریکی نمائندے نے ملاقات میں پاک-افغان باہمی تجارت کو بڑھانے اور دیگر امور پر تبالہ خیال کیا۔

بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے استنبول میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر کی تقریر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بطور احتجاج بائیکاٹ کیا۔

شاہ محمود قریشی جیسے ہی بھارتی وزیر کی تقریر شروع ہوئی تو احتجاجاً اجلاس سے آٹھ کر باہر چلے گئے۔

خیال رہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے انعقاد اور بھرپور میزبانی پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کے خلاف آپ کی آواز نے نہتے کشمیریوں کو بے پناہ حوصلہ دیا ہے۔