سٹی بینک پاکستانی حکومت کی 'معاشی پالیسیوں کا حامی'

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

کراچی میں سٹی بینک پاکستان کے ہیڈکوارٹرز میں منیجنگ ڈائریکٹر   ندیم لودھی نے اپنی سینئر ٹیم کے ہمراہ بزنس رپورٹرز سے بات چیت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
کراچی میں سٹی بینک پاکستان کے ہیڈکوارٹرز میں منیجنگ ڈائریکٹر ندیم لودھی نے اپنی سینئر ٹیم کے ہمراہ بزنس رپورٹرز سے بات چیت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی : سٹی بینک پاکستان کی سینئر منیجمنٹ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے اس کی سمت کو درست قرار دیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سٹی بینک پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر ندیم لودھی نے حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم ٹیکس جی ڈی پی کے کم تناسب کے حل کی کوششوں سے معاشی انتظام میں ایک مثالی تبدیلی دیکھ رہے ہیں جبکہ مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ (ایسکچینج ریٹ) کے اقدام سے سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہونے میں مدد ملی ہے‘۔

کراچی میں سٹی بینک پاکستان کے ہیڈکوارٹرز میں منیجنگ ڈائریکٹر ندیم لودھی نے اپنی سینئر ٹیم کے ہمراہ بزنس رپورٹرز سے بات چیت کی۔

مزید پڑھیں: حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کیلئے ٹھیک نہیں، پی ٹی آئی رکن اسمبلی

اس موقع پر ان کی ٹیم نے اتفاق کیا کہ حکومت نے اپنی معاشی پالیسیوں کی درست سمت طے کی ہے اور اگر وہ ڈگمگائے بغیر اس پر قائم رہتی ہے تو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔

ندیم لودھی نے کہا کہ مہنگائی پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے شرح سود زیادہ رہنی چاہیے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا جبکہ شرح مبادلہ کا تعین مارکیٹ کی مناسبت سے جاری رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم شرح سود کے ساتھ انتہائی سخت طریقے سے چل رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور رعایت کی شرح کے درمیان خلا کم ہوتا جارہا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے سے کام متاثر ہونے سے متتعلق سوال پر ندیم لودھی اور معیز حسین علی نے گزشتہ 12 ماہ سے زائد عرصے میں ایف اے ٹی ایف کی منی لانڈرنگ کے خاتمے سے متعلق اقدامات کی فہرست پر حکومتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کو غیر مادی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

معیز حسین علی نے کہا کہ ’ایف اے ٹی ایف سے خطرے کی سطح اتنی زیادہ نہیں ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا

انہوں نے اگلے برس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل رکھنے جانے کا امکان ظاہر کیا اور مزید کہا کہ ملک کو مکمل طور پر بلیک لسٹ کرنا خطرے کی وہ نوعیت ہے جس کے ہونے کا امکان مشکل ہے۔

معیز حسین نے کہا کہ ’ہم اسی الرٹ کی سطح پر کام کرتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے گرے لسٹ میں شامل کرنے سے ہمارا کاروبار ہمارے کلائنٹس متاثر نہیں ہوئے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری کاغذوں میں غیرملکی سرمایہ کاری خاص طور پر قلیل المدتی بلِز اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرمایہ کار ایف اے ٹی ایف کے اگلے جائزے کو کسی خاطر میں نہیں لارہے۔