حج درخواستوں سے جمع ہونے والی رقم پر سود لینے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

جواب میں بتایا گیا کہ حج قرعہ اندازی کے بعد ناکام ہونے والے درخواست گزاروں کو ان کی رقم واپس کی جاتی ہے— فائل فوٹو: اےایف پی
جواب میں بتایا گیا کہ حج قرعہ اندازی کے بعد ناکام ہونے والے درخواست گزاروں کو ان کی رقم واپس کی جاتی ہے— فائل فوٹو: اےایف پی

وزارت مذہبی امور نے حجاج کرام کی جانب سے جمع کروائی جانے والی رقم پر بینکوں سے سود لینے کا انکشاف کردیا۔

قومی اسمبلی میں وفقہ سوالات کے دوران جمع کروائے گئے تحریری جواب میں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے بتایا کہ گزشتہ برس 3لاکھ 74 ہزار 8 سو 57 پاکستانیوں نے حج درخواستیں جمع کروائیں تھیں جس پر ایک سو 6 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد رقم جمع ہوئی تھی۔

تحریری جواب میں بتایا گیا کہ حجاج کی جانب سے جمع کروائی گئی رقم پر سال 2018 میں 21 کروڑ روپے سے زائد سود حاصل ہوا اور گزشتہ 5 برس میں ایک ارب 17 کروڑ روپے سود حاصل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے دوسری بار عمرے پر عائد اضافی فیس ختم کردی

جواب میں بتایا گیا کہ 2017 میں 3 لاکھ 38 ہزار 6 سو 96 حج درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں جن سے 95 ارب 96 کروڑ 90 لاکھ سے زائد رقم جمع ہوئی تھی اور اس رقم پر 13 کروڑ 80 لاکھ 99 ہزار 8 سو 48 روپے سود حاصل کیا گیا تھا۔

اس میں مزید بتایا گیا کہ 2016 میں 2 لاکھ 80 ہزار 6 سو 17 افراد نے حج کی درخواستیں جمع کروائیں جن سے 76 ارب 86 کروڑ سے زائد رقم جمع ہوئی اور اس پر 26 کروڑ 5 لاکھ 85 ہزار 2 سو 72 روپے سود حاصل کیا گیا۔

تحریری جواب کے مطابق 2015 میں 2 لاکھ 69 ہزار 3 سو 28 افراد نے درخواستیں جمع کروائیں جس پر 72 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہوئی اور اس پر 34 کروڑ 39 لاکھ 12 ہزار 4 سو 22 روپے سود حاصل ہوا۔

جواب کے مطابق 2014 میں ایک لاکھ 29 ہزار 56 افراد نے حج درخواستیں جمع کروائیں جس سے 35 ارب 35 کروڑ روپے جمع ہوئے تھے اور اس پر 22 کروڑ 11 لاکھ 83 ہزار 2 سو 71 روپے سود حاصل کیا گیا تھا۔

جواب میں بتایا گیا کہ حج قرعہ اندازی کے بعد ناکام ہونے والے درخواست گزاروں کو ان کی رقم واپس کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا پاکستانیوں کو عمرہ ٹیکس پر چھوٹ دینے پر اتفاق

تحریری جواب میں کہا گیا کہ سود سے حاصل ہونے والی رقم حجاج کرام کی ویکسین، تربیت، ادویات اور اس حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے میڈیا مہم پر خرچ کی جاتی ہے۔

اس میں مزید بتایا گیا حجاج سے حاصل کی جانے والی رقم ان کی رہائش کے اخراجات، حج کے لازمی واجبات، اضافی سروس چارجز، آب زم زم اور کھانے کی رقم پر خرج کی جاتی ہے۔

جواب میں بتایا گیا کہ حجاج کی ٹکٹ کی رقم ایئرلائنز کو ادا کی جاتی ہے جبکہ دیگر سروس چارجز اور حجاج محافظ فنڈ کو متعلقہ اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا ہے۔