افغانستان: طالبان نے سرکاری ملازم کے جنازے سے 45 افراد کو اغوا کر لیا

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

طالبان کی طرف سے فوری طور پر اغوا کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا — فائل فوٹو / رائٹرز
طالبان کی طرف سے فوری طور پر اغوا کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا — فائل فوٹو / رائٹرز

افغان طالبان نے سرکاری ملازم کے جنازے سے مرحوم کے 45 رشتہ داروں کو اغوا کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق طالبان نے صوبہ جوزان میں مرحوم کی تدفین کے لیے جسد خاکی کو قبرستان لے جانے والے بزرگ افراد کو اغوا کیا، جبکہ جوانوں کو اغوا نہیں کیا گیا۔

جوزان کے انٹیلی جنس سربراہ نے کہا کہ طالبان مستقبل طور پر کابل حکومت کے ساتھ کام کرنے والے کسی بھی شخص کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کی لوگوں کو دھمکی دیتے رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے اغوا کیے گئے افراد کی تعداد صرف 6 بتائی اور کہا کہ دیگر مقامی رہنما طالبان کے ساتھ ان کی رہائی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

طالبان کی طرف سے فوری طور پر اغوا کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ افغانستان کے تقریباً نصف علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں جہاں تقریباً ہر روز حملے ہوتے ہیں جن میں افغان سیکیورٹی فورسز اور حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم ان حملوں میں متعدد عام شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان فواد امان کا کہنا تھا کہ پیر کے روز ہلمند صوبے کے جنوب میں خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں 5 افغان فوجی اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور کو افغان آرمی کمپاؤنڈ کے چیک پوائنٹ کے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔

طالبان نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دوسری جانب افغانستان کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ہفتے کے روز معطلی کے بعد افغان طالبان سے پہلے باضابطہ مذاکرات کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں طالبان سے امن معاہدے کو مردہ قرار دیتے ہوئے مذاکرات معطل کر دیے تھے۔