دادو میں بچی کی 'سنگساری' کا معاملہ: سعید غنی کی میڈیا پر تنقید

11 دسمبر, 2019

ای میل

صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز
صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے بغیر تصدیق کیے دادو سے تعلق رکھنے والی کم عمر بچی گل سما کو سنگسار کرنے اور جرگے کی طرف سے مبینہ طور پر کاروکاری (غیرت کے نام پر قتل) کا فیصلہ دینے کی خبر چلانے پر میڈیا پر تنقید کی ہے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ 'اب تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں جن سے یہ پتہ چلے کہ بچی کے ساتھ کچھ غلط ہوا یا اسے سنگسار کیا گیا۔'

انہوں نے کیا کہ 'میں میڈیا اور ہمارے اراکین اسمبلی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مصدقہ معلومات کے بغیر کسی معاملے پر بات نہ کریں اور نہ حکومت پر تنقید کریں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں حساس معاملات پر بات کرنے سے قبل تھوڑا انتظار کرنا چاہیے جیسا کہ یہ معاملہ ہے اور کوئی بھی تبصرے سے قبل معاملے کی تفصیلات لینی چاہیئں۔'

سعید غنی نے کہا کہ جب چند رپورٹرز نے واقعے سے متعلق خبریں شائع کیں تو انہوں نے ان سے ان سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کن ذرائع کی بنیاد پر انہوں نے یہ رپورٹس شائع کیں۔

یہ بھی پڑھیں: دادو میں 10 سالہ لڑکی کو 'سنگسار' کرنے کا الزام، والدین سمیت 4 گرفتار

انہوں نے کہا کہ رپورٹرز نے اپنے ذرائع سامنے لانے سے انکار کیا جس پر انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے ذرائع کا نام نہ بتائیں لیکن اپنے دعوؤں سے متعلق تفصیلات ضرور سامنے لائیں۔

صوبائی وزیر نے سوالات اٹھائے کہ جرگہ کہاں بیٹھا؟ کس نے جرگہ بلایا؟ جرگے میں کون کون موجود تھا؟ سنگساری کا حکم کب دیا گیا؟ اور اس پر کیسے عملدرآمد ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ 'رپورٹرز نے کہا کہ وہ مجھے تفصیلات بتائیں گے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔'

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 'اس طرح کی حساس رپورٹس تصدیق کے بغیر کسی صورت شائع نہیں ہونی چاہیئں۔'

سعید غنی نے کہا کہ 'بغیر تصدیق خبر شائع ہونے پر پولیس اور حکومت کو تو تکلیف ہوئی لیکن بچی کے اہلخانہ کو بھی اس وقت شدید صدمہ ہوا جب گل سما کی قبر کشائی ہوئی، یقیناً کئی لوگوں نے اسے قبر کی بے حرمتی کے طور پر دیکھا لیکن ہمیں واقعے سے متعلق نتیجے پر پہنچنے کے لیے یہ کرنا پڑا۔'

انہوں نے کہا کہ 'جس شخص پر جرگے میں فیصلہ سنانے کا الزام عائد ہوا وہ پی ٹی آئی رہنما کا بیٹا ہے، اگر معاملے میں کسی پی پی رہنما کے ملوث ہونے کا معاملہ سامنے آتا تو نہ جانے اس کو کتنا اچھالا جاتا، لیکن ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نام لیا اور نہ ہی انہیں معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔'

مزید پڑھیں: دادو میں لڑکی کی 'سنگساری'، میڈیکل بورڈ کو گردن اور چہرے کی ہڈیاں فریکچر ملیں

ان کا کہنا تھا کہ 'بچی کے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ جاری نہیں ہوئی ہے جبکہ عبوری رپورٹ اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق بچی کی موت اس کی کمر پر بھاری پتھر لگنے سے ہوئی۔'

صوبائی وزیر اطلاعات نے بچی کی قبر کشائی پر اس کے والدین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ہمارا قصور نہیں ہے، اگر قبر کشائی نہ ہوتی تو معاملے کو کوئی اور رنگ دیا جاتا۔'

واضح رہے کہ گل سما کی عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بچی کی موت کسی بھاری اور سخت چیز لگنے کی وجہ سے ہونے والے متعدد فریکچرز کے باعث ہوئی اور اس کے جسم کے کسی حصے سے سنگساری کے زخم کا کوئی نشان نہیں ملا۔

بچی کے والد نے میڈیکل بورڈ کو بیان دیا تھا کہ جب ان کی بیٹی دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی تب قریبی پہاڑی سے ایک بھاری پتھر اس پر آکر گرا جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔

'دعا کے اغوا کاروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا'

سعید غنی نے ہفتہ کو دعا منگی کی واپسی کے حوالے سے بھی بات کی جنہیں 30 نومبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دعا منگی کے اغوا کے پیچھے عسکریت پسند گروہ کے ہونے کا شبہ

انہوں نے پولیس کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 'وزیر اعلیٰ یہ واضح کر چکے ہیں کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور اغوا کاروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ دعا منگی کے اہلخانہ سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ پولیس سے تعاون کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی کہ ملزمان کی شناخت جلد سامنے آجائے گی۔