لائسنس کے بغیر تلور کا شکار کرنے کی کوشش پر 7 قطری شہری گرفتار

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2019

ای میل

دفتر خارجہ نے شکار کے لیے عرب ممالک کے عہدیداران کو 18 لائسنس جاری کیے تھے—فائل فوٹو: رائٹرز
دفتر خارجہ نے شکار کے لیے عرب ممالک کے عہدیداران کو 18 لائسنس جاری کیے تھے—فائل فوٹو: رائٹرز

کوئٹہ: قطری شاہی خاندان کے 4 افراد سمیت 7 قطری باشندوں کو دفتر خارجہ کی اجازت کے بغیر تلور کے شکار کے لیے نوشکی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ قطری شہری پیر کی شام نوشکی کی جانب سفر کررہے تھے جہاں انہیں کوئٹہ نوشکی شاہراہ کی گلنگور چیک پوائنٹ پر لیویز اہلکاروں نے روک کر حراست میں لیا۔

نوشکی کے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق ساسولی نے قطری شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ مقامی لباس میں ملبوس تھے تاکہ سیکیورٹی فورسز کو چکمہ دے سکیں لیکن لیویز اہلکاروں نے انہیں چیک پوائنٹ پر روک لیا۔

یہ بھی پڑھیں: تلور کے شکار کے اجازت نامے دینے سے پاکستان کا 'جی ایس پی پلس' اسٹیٹس خطرے میں

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ’قطر کے حکمراں خاندان کے 4 افراد سمیت دیگر قطری شہری دفتر خارجہ کے جاری کردہ شکار کے لائسنس کے بغیر تلور کا شکار کرنے کے لیے علاقے میں داخل ہورہے تھے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اہلکاروں نے حراست میں لیے گئے ان افراد کو محکمہ جنگلی حیات کے حکام کے حوالے کردیا، جنہوں نے ان غیر ملکیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

قطری شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کی شناخت شیخ محمد بن منصور جاسم، شیخ خالد بن علی، شیخ عبداللہ بن جاسم اور شیخ احمد بن خالد کے نام سے ہوئی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ قطری شہری 2 دسمبر کو کوئٹہ پہنچے تھے جن کے پاس 3 ماہ کا ویزا تھا۔

مزید پڑھیں: عرب شاہی خاندانوں کا تلور کے شکار کا سلسلہ جاری

ان کی آمد کے وقت ہی محکمہ جنگلی حیات نے انہیں بتادیا تھا کہ وہ دفتر خارجہ کے جاری کردہ شکار کے لائسنس کے بغیر ضلع چاغی میں داخل نہیں ہوسکتے۔

خیال رہے کہ مقامی انتظامیہ نے گزشتہ ماہ بھی 2 قطری شہریوں کو بغیر اجازت ضلع چاغی میں تلور کا شکار کرنے کی کوشش پر گرفتار کیا تھا۔

سیکریٹری محکمہ جنگلی حیات سعید احمد جمالی کے مطابق دفتر خارجہ نے قطر، متحدہ عرب امارات، سعوسی عرب، بحرین اور دیگر ارب ممالک کے شاہی افراد اور عہدیداروں کو تلور کے شکار کے لیے مجموعی طور پر 18 لائسنس جاری کیے تھے۔

تاہم ان کے مطابق 18 میں سے صرف 2 پارٹیز نے 100 تلور کے شکار کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ فیس ادائیگی کی قانونی شرط پر عمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس میں نامزد یو اے ای کے شہری کو تلور کے شکار کی اجازت

عہدیدار نے مزید بتایا کہ ’فیس ادا کرنے والی ان 2 پارٹیز کو شکار کی اجازت دے دی گئی تھی، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ '100 تلور کا شکار کرنے کے لیے فیس ایک لاکھ امریکی ڈالر تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے ہے'۔

دریں اثنا بلوچستان میں محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کی جانب سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے پرندوں کے غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے شروع کی جانے والی مہم بھی جاری ہے۔


یہ خبر 11 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔