لاہور ہائی کورٹ میں ’خفیہ ریکارڈنگ کو غیر قانونی‘ قرار دینے کی درخواست

11 دسمبر 2019

ای میل

عدالت عالیہ کے جسٹس جواد حسن نے عوامی مفاد میں دائر اپیل کی سماعت کی—تصویر: لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ
عدالت عالیہ کے جسٹس جواد حسن نے عوامی مفاد میں دائر اپیل کی سماعت کی—تصویر: لاہور ہائی کورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ نے نجی اور عوامی مقامات پر لوگوں کی لاعلمی میں اور ان کی مرضی کے بغیر خفیہ طور پر ان کی ویڈیو یا تصاویر بنانے کو غیر آئینی قرار دینے کے لیے دائر درخواست میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت عالیہ کے جسٹس جواد حسن نے عوامی مفاد میں دائر اپیل کی سماعت کی جو خواتین کی ترقی اور صنفی اصلاحات کے لیے کام کرنے والے سماجی رضاکار سلمان صوفی نے دائر کی تھی۔

انہوں نے ریاست اور نجی اداروں کی جانب سے خواتین کی پرائیویسی متاثر ہونے کے واقعات سامنے آنے پر اس ضمن میں کوئی قواعد و ضوابط، روک تھام، کنٹرول یا کسی قسم کی کوئی پابندی نہ ہونے کے باعث عدالت سے رجوع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی بینکوں کو درپیش نئے چیلنجز ہیں‘

درخواست میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان کی رپورٹ برائے سال 2017 کا حوالہ دیا جس کے مطابق پاکستان میں خواتین کو آن لائن بدسلوکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مردوں کے تجربات سے یکسر مختلف ہے۔

سلمان صوفی نے اپنی درخواست میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں سامنے آنے والے اسکینڈل کا ذکر کیا جس میں انتظامیہ اور عملے کی جانب سے کیمس میں نصب اور پوشیدہ کیمروں کے ذریعے طالبات کی ویڈیو ہراساں اور بلیک میل کیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ پرائیویسی کا حق بالخصوص ذاتی معلومات کا حق پاکستان کے قوانین کے تحت فطری اور پیچیدہ ہے لیکن اس ضمن میں توجہ کی کمی کی وجہ سے یہ دوسرے قوانین کے مقابلے غیر فعال رہا۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا صارفین کیلئے 'شناختی تصدیق' کا آپشن لازمی قرار دینے کی تیاری

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ کسی بھی عوامی مقام پر بغیر کسی واضح علامت یا نوٹس چسپاں کیے بغیر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو غیر آئینی اور پرائیویسی میں مداخلت قرار دیا جائے۔

انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ تمام سرکاری اور نجی اداروں جو کہ عوام کی ذاتی معلومات جمع کرنے اکٹھا کرنے اور محفوظ کرنے میں ذمہ دار ہیں انہیں ڈیٹا کو لیک کرنے سے روکنے کے لیے تمام تر ضروری اور حفاظتی اقدامات کرنےکی ہدایت کی جائے۔