آرمی چیف کے معاملے پر آئینی ترامیم کیلئے وزیراعظم کی پارٹی رہنماؤں سے مشاورت

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

28 نومبر کو سپریم کورٹ نے آرمی چہیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کی منظوری دی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
28 نومبر کو سپریم کورٹ نے آرمی چہیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کی منظوری دی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل تعطل کا شکار ہونے کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنماؤں سے مشاورت کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئینی ترمیم سے متعلق ملاقاتوں کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم نے تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی اور وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر سے ملاقات کی۔

اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بتایا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے عمل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا تھا، جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔

مزید پڑھیں: 'امید ہے آرمی چیف کے معاملے میں اپوزیشن ذمہ داری کا ثبوت دے گی'

اسد قیصر نے بتایا کہ وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا تھا کہ زیرالتوا بلز کی آسان منظوری کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور آرمی چیف کی دوبارہ تقرری اور مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قوانین میں ترامیم کا بل پیش کیا جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی راہ نکالی جائے گی جس سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان ڈیڈ لاک نہ ہو‘۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ زیر التوا معاملات اور نئی قانون سازی پر اتفاق رائے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پسِ پردہ ملاقاتیں جاری ہیں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر کے تقرر سے متعلق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اجلاس ہوا تھا جس میں ہم نے اپوزیشن کے ساتھ زیر التوا (معاملات) اور نئی قانون سازیوں پر غیر رسمی طور پر تبادلہ خیال کیا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ تمام نئے بلز کو ابتدائی طور پر پارلیمنٹ کی قانون ساز کمیٹی کو ارسال کیا جائے، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے تاکہ اس پر تبادلہ خیال کیا جاسکے اور بلز کو پارلیمنٹ بھیجنے سے قبل اپوزیشن کے تحفظات دور کیے جاسکیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ’ ہم (حکومت اور اپوزیشن) یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی معاملے پر صورتحال اس قدر خراب نہ ہو کہ متعلقہ فریقین کو عدالت سے رجوع کرنا پڑے‘۔

اسد قیصر نے کہا کہ ’ ہم تمام معاملات پارلیمنٹ میں حل کرنا چاہتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، شیخ رشید کا دعویٰ

علاوہ ازیں یہ بات علم میں آئی ہے کہ پارلیمنٹ میں 160 سے زائد بلز زیرِ التوا ہیں لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدم اور ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے قانون سازی نہیں ہوئی۔

حکمران جماعت پی ٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی قومی اسمبلی جبکہ اپوزیشن کی سینیٹ میں اکثریت موجود ہے۔

نہ صرف اپوزیشن بلکہ دیگر حلقوں اور تجزیہ کاروں نے بھی اپوزیشن کے ساتھ ہم آہنگی قائم نہ کرنے پر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کردیا ہےکیونکہ اس کی وجہ سے قانون سازی کا عمل رک گیا ہے۔

حال ہی میں حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی کوشش کی اور صدر عارف علوی نے 8 آرڈیننس نافذ کیے تھے۔

تاہم اپوزیشن کی تنقید پر حکومت نے تمام صدارتی آرڈیننس واپس لے لیے تھے اور قوانین اور طریقہ کار کے تحت قومی اسمبلی میں بلز پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنما نے اعلان کیا تھا مسلم لیگ(ن)پارلیمنٹ میں زیرِ التوا قانون سازی سمیت کسی بھی معاملے پر کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تقرری اور توسیع سے متعلق قانون سازی کے معاملے پر پاکستان کا واضح موقف ہے کہ ’ہم سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں‘۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف حکومت قومی احتساب بیورو کے ساتھ مل کر اپوزیشن رہنماؤں کو کسی ثبوت یا سزا کے بغیر جیل بھیج جارہی ہے اور دوسری جانب حکومت، اپوزیشن کے ساتھ تعاون چاہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ حکومت نے اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا ہے اور ہم اس وقت تعاون نہیں کریں گے جب تک حکومت اپنے طریقے نہیں بدلتی‘۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع

یاد رہے کہ رواں سال 19 اگست کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی گئی تھی۔

وزیراعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کے لیے آرمی چیف مقرر کیا۔

خیال رہے کہ 25 نومبر کو جیورسٹ فاؤنڈیشن نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

جس کے بعد 26 نومبر کو ہونے والی پہلی سماعت میں ہی سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف، وفاقی حکومت اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کردیے تھے۔

سماعت کے بعد عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جب اس نوٹیفکیشن میں غلطی کا احساس ہوا تو وزیراعظم نے سمری صدر کو بھجوائی جس کی صدر نے منظوری دی تھی۔

28 نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 6 ماہ کی مشروط توسیع دے دی تھی۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ متعلقہ قانون سازی تک اپنا کام اور امور کی انجام دہی جاری رکھیں، نئی قانون سازی یہ طے کرے گی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت اور ملازمت کی دیگر شرائط و ضوابط کیا ہوں گے۔