امریکا: یہودی اسٹور پر حملے میں 6 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

پولیس نےحملہ آوروں سے متعلق فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کیں — فوٹو: اے پی
پولیس نےحملہ آوروں سے متعلق فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کیں — فوٹو: اے پی

امریکا کی ریاست نیوجرسی میں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ نیو جرسی کے میئر کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے یہودی مارکیٹ کو نشانہ بنایا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کی رپورٹ کے مطابق میئر اسٹیون فیولوپ نے حملے کو یہود مخالف قرار دینے س انکار کیا اور کہا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو میں مسلح افراد کو شہر کی سڑکوں سے جاتے ہوئے کوشر گروسری اسٹور کے باہر رکتے ہوئے دیکھا گیا جہاں وہ اپنی وین سے باہر آئے اور فوراً فائرنگ شروع کردی۔

حملے کی تحقیقات کرنے والے ریاست کے اٹارنی جنرل اور قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے نے حملے میں یہودیوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تصدیق نہیں کی۔

مزید پڑھیں: امریکا: ٹیکساس کے بعد اوہائیو میں بھی فائرنگ، 9 افراد ہلاک

ادھر سٹی پبلک سیفٹی کے ڈائریکٹر جیمز شیے نے کہا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ معلوم نہیں ہوتا جبکہ پولیس نے حملہ آوروں سے متعلق فوری طور پر کوئی معلومات جاری نہیں کیں۔

منگل کی دوپہر کو ہونے والی فائرنگ میں ایک پولیس افسر، 2 حملہ آور اور جائے وقوع پر موجود 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس سربراہ مائیکل کیلی نے کہا کہ فائرنگ ایک قبرستان کے قریب شروع ہوئی جہاں غیرقانونی ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کرنے والے یونٹ کے 40 سالہ رکن جوزف سیلز حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔

حملہ آور کوشر مارکٹ سے ایک میل کے فاصلے پر چوری کی گئی وین کو وہاں لے کر گئے اورانہوں نے رائفل کے ذریعے پولیس کے ساتھ جھڑپ کا آغاز کیا اور شہر میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگیا۔

بعدازاں پولیس کو گروسری اسٹور سے 5 افراد کی لاشیں ملیں جن میں حملہ آور اور دیگر 3 افراد شامل تھے جو فائرنگ کے وقت اسٹور میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی بحریہ کے اہلکار کی فوجی اڈے میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ 3 افراد پولیس کی نہیں بلکہ مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

اس حوالے سے میئر اسٹیون فیولوپ نے کہا کہ سیکیورٹی کیمرے کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلح افراد نے مارکیٹ کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’ہمارے سی سی ٹی وی سسٹم کے جائزے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ دونوں افراد نے کوشر گروسری کی جگہ کو نشانہ بنایا‘۔

بعدازاں ایک نیوز کانفرنس میں میئر نے کہا کہ سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیو میں وین کو سست رفتار سے حرکت کرتے اور اسٹور کے سامنے رکتے ہوئے دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ سڑک پر کئی لوگ موجود تھے ان کے پاس کئی اہداف موجود تھے جنہیں انہوں نے اس جگہ پر حملہ کرنے کے لیے نظر انداز کیا جس سے واضح ہے کہ ان کا نشانہ اسٹور اور ان کا ارادہ وہاں موجود لوگوں کو نقصان پہنچانا تھا‘۔

تاہم میئر نے خبردار کیا کہ ’ میں نے ’یہود مخالف ‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا جبکہ تحقیقات جاری ہیں‘۔

دوسری جانب یہودی رہنماؤں اور یہود مخالف حملوں کا پتہ لگانے والی بین الاقوامی تںظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔


یہ خبر 12 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی