خیبرپختونخوا: پولیو کے مزید 4 کیسز رپورٹ، مجموعی تعداد 98 تک پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

2018 میں پولیو کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے تھے — فوٹو: شٹراسٹاک
2018 میں پولیو کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے تھے — فوٹو: شٹراسٹاک

اسلام آباد: خیبرپختونوا میں پولیو کے 4 نئے کیسز سامنے آگئے جس کے بعد رواں سال ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 98تک پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں 3 بچیوں اور ایک بچے میں پولیو کے حالیہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پولیو کے کیسز کی مجموعی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے جو ملک بھر میں یکم جنوری 2016 سے 31 دسمبر 2018 تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی کُل تعداد سے زیادہ ہے۔

اس حوالے سے نیشنل انسٹییٹوٹ آف ہیلتھ( این آئی ایچ ) اسلام آباد سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا سے پولیو کے 4 کیسز سامنے آئے جن میں سے 3 ضلع لکی مروت اور ایک ضلع ٹانک سے رپورٹ ہوا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے

این آئی ایچ لیبارٹری کے عہدیدار نے بتایا کہ پولیو وائرس سے ایک 3 ماہ کا بچہ متاثر ہوا ہے، بچہ تحصیل سرائے نورنگ کی یونین کونسل تختی خیل کا رہائشی ہے، انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیو ویکسین نہیں پلائی گئی تھی۔

عہدیدار نے کہا کہ اسی علاقے سے 11 ماہ کی بچی بھی پولیو سے متاثر ہوئی اور اسے بھی پولیو ویکسین نہیں پلائی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ لکی مروت کی یونین کونسل ڈیرہ تنگ میں 11 ماہ کی بچی میں پولیو کی تشخیص ہوئی، بچی کے والدین کا دعویٰ ہے کہ اسے 2 مرتبہ پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔

علاوہ ازیں ضلع ٹانک کی یونین کونسل واراسپون کی رہائشی 12 ماہ کی بچی بھی پولیو وائرس کا شکار ہوگئی۔

نئے کیسز سامنے آنے کے بعد رواں برس ملک بھر میں پولیو کیسز کی تعداد 98 تک پہنچ گئی ہے جو 2018 میں 12 جبکہ 2017 میں 8 تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو پروگرام کی کارکردگی کے اعداد و شمار تبدیل کیا گیا، ترجمان وزیر اعظم

واضح رہے کہ رواں برس خیبرپختونخوا سے 72، سندھ سے 14، بلوچستان سے 7 اور پنجاب سے اب تک پولیو کے 5 کیسز سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب جاپان کی حکومت نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام میں تعاون کے لیے ساڑھے 4 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔

یہ پروگرام رواں برس دسمبر سے نومبر 2020 تک انسداد پولیو کی طے کردہ مہمات کے دوران ویکسینکو 5 سال سے کم عمر 2 کروڑ بچوں تک پہنچانے میں مدد دے گا۔

اس حوالے سے گرانٹ پر جاپان کی حکومت، جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی اور اقوام متحدہ کے چلڈرنز فنڈز کے درمیان وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔


یہ خبر 12 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی