حکومت کو پاکستانی تارکین وطن کیلئے ویزا کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 12 دسمبر 2019

ای میل

کمیٹی میں تارکین وطن کو ملک میں پراپرٹی خریدنے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے—فوٹو: کریٹو کامن فائل
کمیٹی میں تارکین وطن کو ملک میں پراپرٹی خریدنے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے—فوٹو: کریٹو کامن فائل

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ خود کو غیر ملکی شہری قرار دے کر یورپی ممالک میں نقل مکانی کرنے والے پاکستانی تارکین وطن کے لیے ویزا کے عمل میں آسانی پیدا کی جائے۔

سینیٹ کی عمل درآمد کمیٹی کو بریفنگ دی گئی جو تارکین وطن اب پاکستان آنا چاہتے ہیں انہیں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں: ‘بیرون ملک جیلوں میں موجود پاکستانی وطن واپسی کیلئے آمادہ نہیں‘

خیال رہے کہ گزشتہ اجلاس میں ارکان نے مشاورت کی تھی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں خصوصاً یورپی ممالک میں رہائش پذیر افراد کو پاکستان اوریجن کارڈز (پی او سی) کی سہولت دی جانی چاہیے تاکہ وہ شادیوں اور جنازوں میں شرکت کے لیے اپنے ملک واپس جاسکیں۔

علاوہ ازیں مذکورہ کمیٹی میں تارکین وطن کی جانب سے ملک میں جائیداد خریدنے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

اس معاملے پر گزشتہ اجلاس کے دوران کمیٹی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پی او سی حاصل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرے۔

تاہم کمیٹی کے بعض اراکین کا خیال تھا کہ وہ پاکستانی جنہوں نے افغان شہریت حاصل کی انہیں مجرم قرار دیا جائے اور انہیں کوئی سہولت فراہم نہ کی جائے۔

عوامی نوعیت کا یہ مسئلہ اٹھانے والے سینیٹر سجاد تیوری نے پاکستانیوں کو پی او سی جاری کرنے میں کسی مضائقہ کا اظہار نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تارکین وطن یا ہجرت کرنے والوں کی زندگی کا مثبت چہرہ

دوران اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر دلاور خان نے بھی پی او سی کے اجرا پر مثبت خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ 'تارکین وطن پاکستانی اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے اپنے آبائی وطن واپس آسکیں گے'۔

اس موقع پر بیرون ملک بینکوں میں بائیو میٹرک سسٹم کی وجہ سے تارکین وطن کو درپیش مشکلات کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کے 2کروڑ 81 لاکھ اکاؤنٹس کی 31 اکتوبر تک بایومیٹرک تصدیق کی جا چکی ہے۔

حکومت نے سینیٹ کی عمل درآمد کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مزید ایک لاکھ 18 ہزار پاکستانیوں کی بائیومیٹرک کے ذریعہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

مزید یہ کہ جون کے اوائل میں بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشن ڈیپارٹمنٹ (بی پی آر ڈی) کے اعلامیے کے اجرا کے بعد سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو 44 ہزار 590 اکاؤنٹس کی سہولت فراہم کی گئی۔

اسی طرح یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے سے متعلق معاملے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اعلامیہ بینکوں کو بائیو میٹرک تصدیق کے متبادل انتظام کے طور پر شناخت کا پتہ لگانے کے لیے کچھ دستاویزات استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

مزیدپڑھیں: تارکینِ وطن کب تک 'خود غرض' کہلائیں گے

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن اسٹیٹ بینک نے 7 اکتوبر کو جاری کیا تھا۔

بعد ازاں سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک نے وزارت خارجہ سمیت تمام سفارتخانوں خصوصاً خلیجی ممالک کے دفاتر کو دستاویزات کی نقول ارسال کردی تھیں۔


یہ خبر 12 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی