انٹرنیٹ و کیبل کی بندش کے باوجود کشمیر میں ’دیریلیش ارطغرل‘ دیکھا جانے لگا

ای میل

اس ڈرامے کو ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے—اسکرین شاٹ
اس ڈرامے کو ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے—اسکرین شاٹ

ترکی کے شہرہ آفاق تاریخی ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ نے اگرچہ دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں اور جلد ہی پاکستان میں اس ڈرامے کو سرکاری ٹی وی ’پاکستانی ٹیلی وژن‘ (پی ٹی وی) پر اردو میں نشر کیا جائے گا۔

تاہم اس ڈرامے کے حوالے سے تازہ خبر یہ ہے کہ ترکی کے ’گیم آف تھرونز‘ کہلائے جانے والے اس ڈرامے کو مقبوضہ کشمیر میں حد سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

جی ہاں، خبریں ہیں کہ ’دیریلیش ارطغرل‘ کو مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ و کیبل کی پابندی کے باوجود پہلے کے مقابلے زیادہ دیکھا جا رہا ہے جب کہ اس ڈرامے کو اب لوگ اہل خانہ کے ساتھ دیکھنے میں مصروف ہیں۔

بھارتی ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ کے مطابق اگرچہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور وادی میں کیبل پر پاکستان، ترکی اور ایران میں بنائے جانے والے ڈرامے اور فلموں سمیت دوسرے مواد کو دکھانے پر پابندی عائد ہے لیکن اس باوجود ترکی کا ڈراما ’دیریلیش ارطغرل‘ وہاں سب سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر کے افراد اس ڈرامے کی ڈاؤن لوڈ کاپی کو ایک دوسرے کے ساتھ یو ایس بی سمیت دیگر ڈیٹا ڈرائیوز کے ذریعے منتقل کر رہے ہیں اور اس ڈرامے کی اقساط حاصل کرنے والے افراد اسے اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

دیریلیش ارطغرل کو ابتدائی طور پر 2014 میں ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ
دیریلیش ارطغرل کو ابتدائی طور پر 2014 میں ریلیز کیا گیا تھا—اسکرین شاٹ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’دیریلیش اطغرل‘ کو نہ صرف بڑی عمر کے مرد و خواتین بڑے شوق سے دیکھ رہے ہیں بلکہ نئی نسل بھی اس ڈرامے کو دلچسپی سے دیکھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ڈرامے کی مقبولیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وادی کے نوجوان لڑکے اب باہر کرکٹ کھیلنے کے بجائے مل کر اس ڈرامے کو دیکھتے ہیں اور اپنی اسلامی تاریخ اور فتوحات پر بحث کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں کی فتوحات پر مبنی ڈراما ’دیریلیش ارطغرل‘ پی ٹی وی پر نشر ہوگا

وادی کے افراد نے تسلیم کیا کہ ’دیریلیش ارطغرل‘ کی کاپی حاصل کرنے کے بعد ان کے گھر کے نوجوان لڑکے باہر کھیلنے کے بجائے گھر میں اہل خانہ کے ساتھ ترکش ڈرامہ دیکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ ’دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

ڈرامے میں ارطغرل کی ازدواجی زندگی بھی دکھائی گئی ہے—اسکرین شاٹ
ڈرامے میں ارطغرل کی ازدواجی زندگی بھی دکھائی گئی ہے—اسکرین شاٹ

ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔

یہ ڈراما پاکستان، بھارت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سمیت دنیا کے 60 ممالک میں مختلف زبانوں میں نشر کیا جا چکا ہے۔

یہ ڈراما پانچ سیزن اور مجموعی طور پر 179 قسطوں پر مبنی ہے، اس ڈرامے کو ابتدائی طور پر 2014 میں ٹی آر ٹی پر نشر کیا گیا تھا اور اب یہ ڈراما ’نیٹ فلیکس‘ سمیت دیگر آن لائن اسٹریمنگ چینلز پر موجود ہے۔

واضح رہے کہ اس ڈرامے میں دکھائے گئے ارطغرل نامی سپہ سالار کی وفات کے چند سال بعد ہی ان کے چھوٹے بیٹے ’عثمان‘ نے 13 ویں صدی کے آغاز میں ہی ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور مسلمانوں کی یہ عظیم سلطنت تقریبا 600 سال تک 1920 تک قائم رہی۔

سلطنت عثمانیہ کو پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں سے سازش کے تحت ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اسی سلطنت میں موجود کئی علاقے آج دنیا کے نقشے میں آزاد ملک کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

ڈرامے کی کہانی کو مسلمان ممالک میں سراہا گیا ہے—اسکرین شاٹ
ڈرامے کی کہانی کو مسلمان ممالک میں سراہا گیا ہے—اسکرین شاٹ