جرمنی میں سکھوں، کشمیریوں کی جاسوسی کرنے پر بھارتی جوڑے کو سزا

12 دسمبر 2019

ای میل

منموہن ایس کو معلومات فراہم کرنے پر ماہانہ 200 یورو ادا کیے جاتے تھے — فائل فوٹو / اے پی
منموہن ایس کو معلومات فراہم کرنے پر ماہانہ 200 یورو ادا کیے جاتے تھے — فائل فوٹو / اے پی

جرمنی کی عدالت نے موئنشنگلاباخ میں مقیم بھارتی شادی شدہ جوڑے کو نئی دہلی کی خفیہ ایجنسی کے لیے سکھوں اور کشمیری برادریوں کی جاسوسی کرنے کا اعتراف کرنے پر سزا سنادی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق بھارتی جوڑے نے، جس کی جرمنی کے قانون کے مطابق پہلے ناموں سے شناخت ہوئی، گزشتہ ماہ شروع ہونے والے ٹرائل کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی کو معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

جرمن عدالت نے منموہن ایس کو غیر ملکی انٹیلی جنس کے طور پر کام کرنے پر 18 ماہ کی معطل جیل (suspended prison) کی سزا سنائی، جبکہ ان کی اہلیہ کنول جیت کو اپنے شوہر کا ساتھ دینے پر 180 روز کی اجرت کی سزا سنائی۔

واضح رہے کہ 'معطل جیل' ایک قانونی اصطلاح ہے جس میں جج جرم ثابت ہونے پر مجرم کی سزا کو ملتوی کر سکتے ہیں تاکہ اسے آزمائشی مدت گزارنے کی اجازت دی جاسکے اور اگر مجرم اس مدت کے دوران کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور آزمائشی مدت کی مخصوص شرائط پوری کرتا ہے، تو عموماً جج اس کی سزا ختم کر دیتے ہیں۔

جرمنی کی عدالت کے بیان کے مطابق منموہن ایس کو بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' نے 2015 کے اوائل میں بھرتی کیا تھا اور کشمیری اپوزیشن کی تحریک کی جاسوسی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید پڑھیں: سکھ اور کشمیریوں کی جاسوسی کرنے والے بھارتی جوڑے کا ٹرائل شروع

بیان میں کہا گیا کہ 'ملزم نے کولون اور فرینکفرٹ میں سکھوں کے گوردواروں کے اندرونی معاملات اور سکھ برادری کے احتجاج کے واقعات سے متعلق بھارتی خفیہ ایجنسی کو معلومات دیں۔'

51 سالہ منموہن ایس کو معلومات فراہم کرنے پر ماہانہ 200 یورو (223 ڈالر) ادا کیے جاتے تھے اور اس نے جولائی 2017 سے بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کے ساتھ باقاعدگی سے ملاقاتیں کیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ منموہن ایس کی 50 اہلیہ بھی ان ملاقاتوں میں شریک ہوتی تھیں۔

بھارتی جاسوس کو معطل جیل کی سزا کے علاوہ خیراتی ادارے کو ایک ہزار 500 یورو عطیہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

بھارتی جوڑے کے پاس سزا کے خلاف ایک ہفتے تک اپیل دائر کرنے کا وقت ہے۔