یونیسکو نے تھائی مساج کو انسانیت کا لازوال ورثہ قرار دے دیا

13 دسمبر 2019

ای میل

تھائی لینڈ مساج کو دنیا بھر میں خاص مقام حاصل ہے—فوٹو: اے ایف پی
تھائی لینڈ مساج کو دنیا بھر میں خاص مقام حاصل ہے—فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ (یو این) کی ذیلی تنظیم ’یونائٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائیزیشن‘ (یونیسکو) نے تھائی لینڈ میں تقریبا ڈھائی ہزار سال سے چلتی آنے والی مساج کی روایت کو انسانیت کا لازوال ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔

جنوبی امریکی ملک کولمبیا کے شہر بگوٹا میں ہونے والے اجلاس کے دوران یونیسکو کے ارکان نے تھائی لینڈ کے مساج سمیت مختلف ممالک میں کئی صدیوں سے چلی آنے والی روایات کو ’انسانیت کا لازوال ثقافتی ورثہ‘ کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق غور کیا۔

اجلاس میں تھائی لینڈ کے مساج کو ’انسانیت کا لازوال ثقافتی ورثہ‘ قرار دیے جانے سمیت دیگر ممالک کی روایات کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

یونیسکو نے تھائی مساج کو انسانیت کا لازوال ثقافتی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مساج صدیوں سے غیر سائنسی طبی طریقے کے طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا آ رہا ہے اور اب اس مساج کو جدید طریقوں سے سر انجام دیا جاتا ہے۔

یونیسکو کے مطابق اس قدیم ترین مساج کو ’نوڈ تھائی‘ بھی کہا جاتا ہے اور اب اس کی باقاعدہ طور پر تربیت دی جاتی ہے اور اس کی تربیت لینے والے افراد نہ صرف تھائی لینڈ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں جاکر ’مساج سینٹر‘ چلاتے ہیں۔

دنیا کا یہ منفرد مساج نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی کرتی ہیں اور اسے جسمانی صحت اور سکون کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

تھائی لینڈ کے روایتی مساج کے سینٹر اب دنیا بھر میں کھل چکے ہیں—فوٹو: فیس بک
تھائی لینڈ کے روایتی مساج کے سینٹر اب دنیا بھر میں کھل چکے ہیں—فوٹو: فیس بک

اس مساج کو ابتدائی طور پر مندروں اور عبادت گاہوں کے باہر کیا جاتا تھا اور بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ اس مساج تربیت کے مراکز کھولے گئے اور بزرگ افراد نئی نسل کو اس کے طریقے سکھانے لگے۔

اس وقت یہ مساج دنیا بھر میں منفرد شہرت رکھتا ہے اور اس مساج کی تربیت حاصل کرنے والے مرد و خواتین دنیا کے متعدد ممالک میں اپنے مساج سینٹر چلا رہے ہیں۔

یونیسکو کے 5 روزہ ’انسانیت کا لازوال ثقافتی ورثہ‘ کے 14 ویں اجلاس میں دیگر ممالک کی قدیم ترین روایات کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

یونیسکو نے تھائی لینڈ کے مساج کے علاوہ آئرلینڈ کے ’آئرش ہارپنگ، اٹلی کی رقص نما مذہبی روایات، پرتگال کے قدیم ثقافتی میلے اور ملائیشیا کے روایتی حفاظتی انداز‘ کو بھی بھی ’انسانیت کا لازوال ثقافتہ ورثہ‘ قرار دیا ہے۔

انسانیت کا لازوال ثقافتی ورثہ میں شامل کی گئی روایات

نوڈ تھائی مساج - تھائی لینڈ

یہ مساج تھائی لینڈ میں اندازًا ڈھائی سو سال قبل شروع ہوا تھا اور اب اس کے جدید انداز دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتے ہیں۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

سیانٹ روایتی حفاظتی انداز - ملائیشیا

ملائیشیا کے اس حفاظتی انداز جیسے سیلف ڈفینس کے انداز اب اگرچہ دنیا کے کئی ممالک میں متعارف ہو چکے ہیں تاہم یہ قدیم ترین حفاظتی انداز ملائیشیا سے شروع ہوا جسے اب یونیسکو نے لازوال ورثہ قرر دیا ہے۔

—فوٹو: یونیسکو
—فوٹو: یونیسکو

قدیم ثقافتی میلہ و انداز - پرتگال

جنوبی یورپی ملک پرتگال میں کئی سال سے ہر سال منعقد ہونے والے ثقافتی میلے کو بھی یونیسکو نے انسانیت کا لازوال ورثہ قرار دے دیا۔ اس میلے کو دنیا بھر کے لوگ دیکھنے جاتے ہیں جس میں مقامی لوگ روایتی لباس پہن کر روایتی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔

—فوٹو: اناطولو ایجنسی
—فوٹو: اناطولو ایجنسی

رقص نما مذہبی تقریب - اٹلی

رقص نما مسیحی مذہبی تقریب اٹلی میں چرچز کے باہر ہر سال منعقد کی جاتی ہے، اس روایتی و مذہبی تقریب کا آغاز بھی چند صدیاں قبل ہوا تھا اور اب تک یہ تقریبات ہوتی آ رہی ہیں۔

—فوٹو: یونیسکو
—فوٹو: یونیسکو

موسیقی کے آلے کو روایتی انداز میں بجانا - آئر لینڈ

یورپی جزیرے آئر لینڈ کے ’ہارپنگ‘ نامی موسیقی کے آلے کو روایتی انداز میں بجانے والی قدیم روایت کو بھی یونیسکو نے انسانیت کا لازوال ورثہ قرار دیا ہے، ڈھول یا گٹار جیسے اس آلے کو آئرلینڈ کے مرد و خواتین بجاتے ہیں اور نئی نسل اس آلے کو بجانے میں خاصی دلچسپی رکھتی ہے۔

—فوٹو: آئرش ٹائمز
—فوٹو: آئرش ٹائمز