نواز شریف کی طبی رپورٹ حکومت کو موصول نہیں ہوئی، فردوس عاشق اعوان

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2019

ای میل

لیگی قائد ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ لندن سے سیاست کرتے نظر آتے ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز
لیگی قائد ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ لندن سے سیاست کرتے نظر آتے ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کو تاحال سابق وزیراعظم نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طبی رپورٹ موصول ہونے پر ہی حکومت 'زمینی حقائق' کا جائزہ لے گی اور اپنی حکمت عملی مرتب کرے گی۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو انسانی بنیاد پر علاج معالجے کی اجازت دی تھی لیکن پھر عوام نے دیکھا کہ لندن میں ایون فیلڈ میں قدم رکھتے ہی ان کے چہرے کِھل کِھلا اٹھے اور اب عوام سوالات اٹھا رہے ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیگی قائد ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ لندن سے سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف لندن میں زیر علاج ہیں۔

21 اکتوبر کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو صحت کی تشویشناک صورتحال کے باعث لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

بعدازاں عدالتوں سے ضمانتیں ملنے اور محکمہ داخلہ کی جانب سے نواز شریف کو ایک مرتبہ کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دینے کے بعد وہ شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ 19 نومبر کو قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچے تھے۔

'لیگی ترجمان اپنے ہی دعووں کے نیچے دب گئیں'

فردوس عاشق اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا نام لیے بغیر انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'انفارمیشن کمیشن کے حوالے سے رکن قومی اسمبلی نے غلط بیانی کی'۔

انہوں نے کہا کہ لیگی ترجمان خاتون میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے دعوے کرتی ہیں اور اپنے ہی دعووں کے نیچے دب جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'گزشتہ روز بھی باور کرایا گیا تھا کہ انفارمیشن کمیشن نومبر 2018 میں فعال ہوچکا ہے اور کمیشن کو 350 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں‘۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ انفارمیشن کمیشن کے کمشنر تعینات کیے جاچکے ہیں اور کمیشن بھرپور انداز میں اپنا کام کررہا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے مریم اورنگزیب کی جانب سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذمت بھی کی۔

'سیاسی قیدی کو وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری طیارہ دیا'

دوران گفتگو معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو منی لانڈرنگ کیس میں طبی بنیاد پر ضمانت دی گئی لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں سرکاری طیارہ فراہم کرکے ثابت کردیا کہ وزیراعظم عمران خان ان کی عیاشیوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری ایک سیاسی قیدی ہیں جن کے خلاف 11ریفرنس، 26 تفتیش اور 30 نیب انکوائری ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ 'سیاسی قیدی کے لیے وزیراعلیٰ کا طیارہ استعمال ہوا'۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر کو دو ریفرنسز میں ایک ایک کروڑ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔

یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس اور پارک لین کیس میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

'جنہیں عوام نے مسترد کردیا وہ حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں'

علاوہ ازیں فرودس عاشق اعوان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے کہا کہ جنہیں عوام نے مسترد کردیا وہ حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی ذات، مفادات اور اقتدار کے درد میں مبتلا مولانا فضل الرحمٰن متعدد ڈیڈ لائن دے چکے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر معیشت سے متعلق مثبت خبریں آرہی ہیں اور بہت جلد عوام اس کے ثمرات محسوس کریں گے۔

فردوس عاشق اعوان کے مطابق موجودہ حالات میں سیاسی یتیموں کا ٹولہ سیاسی محاذ پر زندہ رہنے کے لیے کوشش کررہا ہے۔

دریں اثنا سیالکوٹ کے صنعت کاروں اور تاجر برادری سے متعلق انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ کے تاجر اور صنعت کاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹی بنادی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ ایک مرتبہ پھر ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

طبی عملے اور مراکز کے امور میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف قانون

اپنی گفتگو میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ طبی عملے اور طبی مراکز کے امور میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سزا کے لیے قانون سازی کا عمل شروع ہوگا اور اس ضمن میں پنجاب اسمبلی میں بل پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں امراض قلب کے ہسپتال پر حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کردیے گئے ہیں۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال کو 24 گھنٹے کے اندر فعال کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلا کے حملے میں شہری املاک کو نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے اور اس کے تحت 75 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

اس موقع پر معاون خصوصی نے وکلا کے حملے کو پاکستانی قوم کے لیے مایوس کن عمل قرار دیا۔