وزارت قانون و انصاف کی آگاہی مہم ’قتل‘ میں کوئی ’غیرت‘ نہیں

اپ ڈیٹ 15 دسمبر 2019

ای میل

آگاہی مہم کے تحت 2 ویڈیوز جاری کی گئیں—اسکرین شاٹ
آگاہی مہم کے تحت 2 ویڈیوز جاری کی گئیں—اسکرین شاٹ

آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے سے آگاہی مہم کے ذریعے ’خواتین و بچوں پر تشدد‘ روکنے کے حوالے سے مختصر ویڈیوز جاری کرتی آئی ہیں۔

تاہم اب ایوارڈ یافتہ فلم ساز نے وفاقی حکومت کی وزارت قانون و انصاف کی مدد سے 2 مختصر آگاہی ویڈیوز جاری کردیں، جن میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی ہے۔

مذکورہ دونوں ویڈیوز کی تیاری میں شرمین عبید چنائے فلم اکیڈمی کو وزارت قانون و انصاف سمیت یورپین یونین ڈیلیگیشن نے معاونت فراہم کی۔

جاری کی گئی دونوں مختصر ویڈیوز میں سے ایک 6 منٹ سے کم دروانیے کی فلم ہے جب کہ دوسری ڈھائی منٹ سے کم دورانیے کی اینیمیٹڈ فلم ہے اور دونوں ویڈیوز میں ’غیرت کےنام پر قتل‘ اور اس حوالے سے بنائے گئے قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی ہے۔

چھ منٹ دورانیے کی مختصر فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک والد اپنی جواں سالہ بیٹی کو شک کی بنیاد پر ’غیرت کے نام پر قتل‘ کردیتا ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک جواں سالہ لڑکی میٹرک میں اچھے نتائج حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کرتی ہیں، تاہم ان کے والد کو اہل محلہ اور دیگر افراد بیٹی کے حوالے سے طعنے دیتے ہیں جس وجہ سے طالبہ کے والد کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔

لوگوں کے طعنوں کے بعد والد اپنی بیٹی کو عین اس وقت قتل کردیتا ہے جب اس طالبہ کا میٹرک کا رزلٹ آیا ہوتا ہے اور وہ پہلی پوزیشن حاصل کرتی ہیں۔

بیٹی کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کرنے کے بعد انہیں اپنی بیوی بتاتی ہیں کہ ان کی بیٹی جن گاڑیوں میں آتی جاتی تھیں وہ ان کے اپنے رشتہ داروں کی گاڑیاں تھیں اور اس نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے انہیں خوش کرنے کے لیے بہت محنت کی۔

بیوی کی باتیں سننے کے بعد قاتل بابت کو پچھتاوا بھی ہوتا ہے، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

اسی طرح دوسری اینیمیٹڈ ویڈیو میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے قوانین سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس جرم کی سزا، سزائے موت ہے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ 2016 کے ترمیمی بل کے مطابق ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی قتل سزا سزائے موت ہے اور قاتل کو مقتول کے اہل خانہ اس وقت ہی معاف کر سکتے ہیں جب مجرم دعیت کی رقم دینے پر راضی ہو، تاہم اس باوجود اسے 14 سال تک قید کاٹنی ہوگی۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ قانون کے تحت عدالتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے کیس کا فیصلہ 90 دن کے اندر سنائیں۔

ساتھ ہی لوگوں کی آگاہی دی گئی ہے کہ ’غیرت کے نام پر‘ کس طرح کے تشدد کیے جا سکتے ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی کو بھی غیرت کے نام پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا انہیں پریشان کرنے سمیت ان کے خلاف تشدد کے راستے اختیار کیے جا رہےہیں تو وہ مقامی عدالت میں تحریری شکایت نامہ یا درخواست جمع کرائیں جس کے بعد عدالت متاثرہ شخص کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی پابند ہے اور عدالت پولیس کو متاثرہ شخص کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات کر سکتی ہے۔

ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگرچہ غیرت کے نام پر قتل اور تشدد کا نشانہ مرد و خواتین دونوں بنتے ہیں تاہم زیادہ تر نشانہ بننے والی خواتین ہوتی ہیں۔