وفاقی و صوبائی دارالحکومت میں 'شیلٹر ہومز' کو فنڈز کی کمی کا سامنا

اپ ڈیٹ 16 دسمبر 2019

ای میل

شیلٹر ہومز مقامی حکام کے لیے انتظامی اور مالی بوجھ بن گئے ہیں— فائل فوٹو: ڈان
شیلٹر ہومز مقامی حکام کے لیے انتظامی اور مالی بوجھ بن گئے ہیں— فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پناہ گاہ شیلٹر ہوم کے قیام کی سوچ کو ہر سطح پر بہت پذیرائی ملنے کے باوجود یہ پناہ گاہیں اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جا رہی ہیں اور یہ شیلٹر ہومز مالی مسائل کا شکار مقامی حکام کے لیے انتظامی اور مالی بوجھ بن گئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے فنڈز مختص کیے بغیر وفاقی دارالحکومت اور دونوں صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پناہ گاہ قائم کردی تھی اور یہ مانا جا رہا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے لیے فنڈز مختص نہ کیے تو ان گھروں کو طویل مدت تک چلانا مشکل ہو گا۔

مزید پڑھیں: پشاور: وزیر اعظم عمران خان نے شیلٹر ہوم کا افتتاح کردیا

ان میں سے کچھ پناہ گاہیں سرکاری عمارتوں میں قائم کی گئی ہیں، کچھ کا عارضی انتظام کیا گیا ہے اور کچھ عمارتوں کو کرائے پر حاصل کیا گیا ہے، ابتدائی طور پر عمارت اور فرنیچر کی قیمت کا خرچ مقامی انتظامیہ اور صوبائی محکموں نے اٹھایا البتہ اس کام کے بہتر انتظام کے لیے انہیں مستقل بنیادوں پر فنڈز کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرنے والے حلقوں سے گفتگو کرنے پر ڈان کو اندازہ ہوا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ فراہم کیے بغیر مقامی انتظامیہ پر ان پناہ گاہوں کو چلانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اب مقامی انتظامیہ نے اس سلسلے میں کچھ این جی اوز سے رابطہ کیا ہے تاکہ بے گھر افراد اور حکومت دونوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

ان شیلٹر ہومز کو چلانے کے لیے حکومت کا محکمہ سماجی بہبود بھی شامل ہے لیکن انہیں بھی اس کے لیے وفاق یا پنجاب و خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں سے فنڈز موصول نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان کا راولپنڈی میں شیلٹر ہوم کا دورہ

مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ پناہ گاہیں بالکل اسی طرح چلائی جا رہی ہیں جیسے کچھ جگہوں پر ہمارے پولیس اسٹیشنز چلائے جا رہے ہیں، مثال کے طور پر ایک کم تنخواہ کے حامل پولیس اہلکار کو کوئی رقم دیے بغیر کہا جاتا ہے کہ وہ زیر حراست ملزم کو عدالت میں سماعت کے لیے پیش کرے اور پھر اسے واپس تھانے میں لا کر بند کردے۔

وفاقی دارالحکومت میں تین پناہ گاہیں بنائی جا چکی ہیں اور سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سونے والوں کے لیے پناہ گاہیں متعارف کرانے پر دادوتحسین سمیٹنے والی حکومت ان اداروں کے انتظام و اخراجات کے حوالے سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔

اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے تین پناہ گاہیں بنائے جانے کے باوجود اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔