’ٹروئے‘ میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا، بریڈ پٹ

دسمبر 16 2019

ای میل

ٹروئے 2004 میں ریلیز ہوئی تھی—اسکرین شاٹ
ٹروئے 2004 میں ریلیز ہوئی تھی—اسکرین شاٹ

ڈیڑھ دہائی قبل ریلیز ہونے والی ہسٹوریکل تھرلر ہولی وڈ فلم ’ٹروئے‘ میں اداکاری کرنے والے اداکار 55 سالہ بریڈ پٹ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مذکورہ فلم میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

بریڈ پٹ کی یہ فلم 2004 میں ریلیز ہوئی تھی جو قدیم یونان کی تاریخ اور خانہ جنگی پر مبنی تھی۔

’ٹروئے‘ میں بریڈ پٹ کے ساتھ ارک بانا، اورلانڈو بلوم، ڈیانے کروگر، روز بائمے، سین بین اور سیفرن بوروز سمیت دیگر اداکاروں نے کام کیا تھا۔

اس فلم کی ہدایات وولف گینگ پیٹرسن نے دی تھیں اور یہ فلم متعدد ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی تھی، تاہم فلم کوئی بھی بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

فلم شائقین کی توقعات کے برعکس نکلی اور فلم کی کہانی سمیت فلم کے اداکاروں پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

بریڈ پٹ نے اس فلم میں ’اچیلس‘ کا کردار ادا کیا تھا جو قدیم یونان کا ایک جنگجو تھا۔

فلم کی شوٹنگ کے دوران میں نے کئی غلطیاں کیں، اداکار—اسکرین شاٹ
فلم کی شوٹنگ کے دوران میں نے کئی غلطیاں کیں، اداکار—اسکرین شاٹ

فلم کی ریلیز کی ڈیڑھ دہائی بعد بریڈ پٹ نے اس حوالے سے پہلی بار بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں اس فلم میں کام کرنےپر مجبور کیا گیا اور مجبوری کے تحت انہیں اس فلم میں کاسٹ کیا گیا۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے سال 2019 کے بہترین اداکاروں کی فہرست میں منتخب ہونے کے بعد بریڈ پٹ نے اخبار کو بتایا کہ ’ٹروئے‘ میں انہیں مجبوری کے تحت کاسٹ کیا گیا۔

بریڈ پٹ نے بتایا کہ دراصل انہوں نے ’وارنر برادرز‘ پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ ان کی متعدد فلموں میں کام کرنے کا معاہدہ کر رکھا تھا اور انہیں 2004 میں اس پروڈکشن کے تحت بننے والی ایک دوسری فلم میں کاسٹ کیا جانا تھا۔

اداکار کے مطابق انہیں دوسری فلم میں کاسٹ نہ کیے جانے کے بعد پروڈکشن ہاؤس نے انہیں ’ٹروئے‘ میں کام کرنے پر مجبور کیا۔

ہر سین میں ہیرو کے طور پر دکھایا گیا، بریڈ پٹ—اسکرین شاٹ
ہر سین میں ہیرو کے طور پر دکھایا گیا، بریڈ پٹ—اسکرین شاٹ

بریڈ پٹ کا کہنا تھا کہ چوں کہ ان کا پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ تھا، اس لیے انہیں ان کی فلم میں کام کرنا پڑا، تاہم وہ ’ٹروئے‘ میں کام کرنے پر خوش نہیں تھے۔

بریڈ پٹ نے بتایا کہ اگرچہ ’ٹروئے‘ میں کام کرنے کی وجہ سے انہیں کوئی ذہنی تکلیف نہیں پہنچیں، تاہم وہ اس پر ںاخوش تھے اور انہیں فلم میں کام کرنے کے دوران ہی احساس ہوگیا تھا کہ ان سے غلطی ہوگئی ہے۔

اداکار کے مطابق ’ٹروئے‘ کی عکس بندی کے دوران ان سے غلطیاں ہوئیں اور انہیں فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی احساس ہوا کہ انہیں ہر سین میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور فلم کی کہانی کے مطابق انہیں پراسرار نہیں دکھایا جا رہا۔

بریٹ پٹ نے فلم کی کہانی اور ہدایت کاری پر اعتراض کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹروئے‘ ایک کمرشل فلم ثابت ہوئی اور انہوں نے اس فلم میں کام کرنے سے بہت کچھ سیکھا۔

اداکار کے مطابق انہوں نے فلم میں کام کرنے کے دوران ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ ایسی کسی بھی فلم میں کام نہیں کریں گے۔

بریڈ پٹ کا کہنا تھا کہ ’ٹروئے‘ میں کام کرتے وقت فیصلہ کرنے سے ہی ان کی اداکاری میں بہتری آئی اور اگلی ایک دہائی میں انہوں نے اچھی فلمیں دیں۔

بریڈ پٹ نے‘ٹروئے‘ کے ہدایت کار وولف گینگ پیٹرسن کی 1980 کی دہائی میں بنائی گئی فلم ’داس بوٹ‘ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بلاشک اچھے ہدایت کار ہیں مگر انہیں ان کی فلم ’ٹروئے‘ میں کام کرکے مزہ نہیں آیا اور وہ فلم کے درمیان اس سے الگ نہیں ہوسکتے تھے۔

ٹروئے متعدد ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی، تاہم کوئی بھی بڑا ایوارڈ حاصل نہ کر پائی—اسکرین شاٹ
ٹروئے متعدد ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی، تاہم کوئی بھی بڑا ایوارڈ حاصل نہ کر پائی—اسکرین شاٹ

خیال رہے کہ بریڈ پٹ نے ’ٹروئے‘ سمیت دیگر ہسٹوریکل تھرلر فلموں میں بھی کام کیا ہے، تاہم آج تک انہیں ان کی اداکاری کی وجہ سے آسکر ایوارڈ نہیں دیا گیا، تاہم انہوں نے بطور پروڈیوسر یہ ایوارڈ جیت رکھا ہے۔

بریڈ پٹ کو ہولی وڈ کے سپر اسٹارز میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی اداکاری کو بہت سراہا جاتا رہا ہے، رواں سال ریلیز ہونے والی ان کی رومانٹک کامیڈی میسٹری فلم ’ونس اپن ٹائم ان ہولی وڈ‘ کو بھی بہت سراہا گیا۔

’ونس اپن ٹائم ان ہولی وڈ‘ میں ان کے ساتھ لیونارڈو ڈی کیپریو نے کام کیا جب کہ اس کی ہدایت کاری کوانٹن ٹرانٹینو نے دی۔