مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست، نیب کو 24 دسمبر تک جواب جمع کرانے کی مہلت

16 دسمبر 2019

ای میل

مریم نواز کی ضمانت منظوری کے بعد ان کا پاسپورٹ عدالت میں جمع ہے—فائل فوٹو: اے پی
مریم نواز کی ضمانت منظوری کے بعد ان کا پاسپورٹ عدالت میں جمع ہے—فائل فوٹو: اے پی

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو 24 دسمبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران نیب اور مریم نواز کے وکیل پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں ہی نیب کے وکیل نے مریم نواز کی درخواست پر جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی، جس پر عدالت نے پوچھا کہ نیب کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر حکومت کو 7 روز میں فیصلے کا حکم

اس پر نیب کے وکیل فیصل بخاری نے کہا کہ آئندہ سماعت پر جواب جمع کروادیں گے، جس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ عدالت پہلے ہی نیب کو موقع فراہم کرچکی ہے، اس کے باوجود جواب نہیں دیا جارہا، نیب کی جانب سے التوا کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے نیب کو 24 دسمبر تک جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے جو بھی جواب دینا ہے وہ دے تاکہ ہم کیس کا فیصلہ کریں۔

خیال رہے کہ مریم نواز کی جانب سے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے اور عدالت میں جمع پاسپورٹ واپس حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔

مریم نواز نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ والد کی طبیعت خراب ہے انہیں دیکھنے کے لیے ملک سے باہر جانا ہے، لہٰذا لاہورہائیکورٹ پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر عدالت عالیہ نے حکومت کی نظرثانی کمیٹی کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

مریم نواز کی ضمانت

خیال رہے کہ 8 اگست 2019 کو چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر کو ان کے کزن یوسف عباس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں 25 ستمبر2019 کو احتساب عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے 30 ستمبر کو اسی کیس میں ضمانت بعد ازگرفتاری کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

تاہم اکتوبر کے اواخر میں ان کے والد نواز شریف کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی جس کے باعث انہوں نے 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی بنیادوں پر فوری رہائی کے لیے متفرق درخواست دائر کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی درخواست پر نیب سے جواب طلب

اس درخواست پر سماعت میں نیب کے ایڈیشنل پراسیکوٹر جنرل نے مریم نواز کی انسانی بنیادوں پر ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ انتہائی غیرمعمولی حالات میں ملزم کو ضمانت دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مریم نواز کا کیس انتہائی غیرمعمولی حالت میں نہیں آتا۔

تاہم عدالت عالیہ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت کو منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن انہیں اپنا پاسپورٹ اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا کہا گیا تھا۔

بعد ازاں نیب نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا تھا۔