لاس اینجلس سے دہلی تک پریشان مسلمانوں کی پریشانی میں اضافے کا خدشہ کیوں؟

20 دسمبر 2019

ای میل

21ویں صدی کی پہلی دہائی اپنی آخری سانسیں گِن رہی ہے اور یہ اختتام بہت ہی مایوسیوں اور اداسیوں سے بھرپور ہے۔

مودی کا بھارت مسلمانوں سے شہریت کے حقوق سلب کرنے پر تُلا ہے جس پر ہندوستان کے طول و عرض میں شدید احتجاج جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر، شام، عراق کے کچھ حصوں اور افغانستان اب بھی میدانِ جنگ بنے ہوئے ہیں۔ لاکھوں افراد بہتر زندگی کی تلاش میں یورپی سرزمین پر پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم کے ساحلوں پر آکر دم توڑ رہے ہیں جبکہ صحارا میں لوگوں کی اس سے بھی بڑی تعداد پُرخطر بحری سفر پر جانے کی کوششوں میں جان کی بازی ہار رہی ہے۔ چند لفظوں میں کہیے تو دنیا بڑی ہی خطرناک اور بے رحم بن چکی ہے۔

یہ وہ دنیا ہے جہاں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ رواں سال 2 اہم انتخابات کا انعقاد ہوا اور اگلے سال ایک اور انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں، اور ان تمام کے نتائج دنیا میں کئی دہائیوں سے مروج رجحانات میں تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔

گزشتہ جمعرات کو انہی 3 میں سے ایک انتخابی عمل برطانیہ میں ہوا۔ گزشتہ 3 برسوں سے بریگزٹ معاملے پر پھنسے اور ڈیل کے تحت یورپی یونین چھوڑنے سے قاصر برطانوی عوام نے کنزرویٹو پارٹی کو بڑا مینڈیٹ بخشا ہے یعنی وزیرِاعظم بورس جانسن اگلی دہائی کے پہلے نصف حصے کے لیے برطانیہ کے کرتا دھرتا ہوں گے۔

اسے تاریخ کا اہم موڑ قرار دینا ہرگز غلط نہیں ہوگا۔ وزیرِاعظم جانسن (اپنے وعدے کے مطابق) یورپی یونین سے علیحدگی کے عمل کو ممکن بنانے میں دیر نہیں کریں گے۔

بریگزٹ کے بعد برطانیہ کا رختِ سفر باندھنے والوں کے لیے پہلے سے زیادہ پیچیدہ طریقہ کار متعارف ہوں گے۔ پاکستانیوں کو تو اس علیحدگی سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا (کیونکہ پاکستانیوں کے لیے پہلے ہی برطانیہ کے ویزے کا حصول مشکل مراحل پر مبنی ہے) البتہ برٹش پاکستانیوں کو کسی حد تک مشکل حالات کا سامنا ہوگا۔

جانسن برقع پہننے والی مسلمان خواتین کو ’لیٹر باکسز‘ سے تشبیہہ دیتے جیسے متنازع بیانات دے چکے ہیں۔ 21ویں صدی کی پہلی دہائی میں 7 جولائی کو ہونے والے لندن حملوں اور اس کے بعد چند برس قبل لندن برج پر ہونے والے حملے جیسے دیگر واقعات، اور پھر مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ’دہشتگرد کارندوں‘ کی گرفتاریوں نے یقیناً ان کے اسلامو فوبیا سے متعلق خیالات کو طول دینے کا سامان مہیہ کیا ہے۔

بات یہاں تک ہی محدود نہیں، بلکہ انہوں نے جو 2 کتابیں لکھیں اس میں بیان کیے جانے والے خیالات واضح طور پر اسلام مخالف ہیں۔ ان کی پہلی کتاب Seventy-two Virgins: A Comedy of Errors ہے، (اب اس عنوان سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتاب کا مواد کس نوعیت کا ہوگا)۔ پھر اس کے علاوہ روم کے تاریخی پس منظر اور سیاسی و تاریخی اعتبار سے ان کے خیالات پر مبنی ان کی دوسری کتاب (جس میں انہوں نے “rise of Islamism” کے عنوان سے ایک خصوصی حصہ بھی شامل کیا ہے)۔

لہٰذا برطانوی مسلمانوں کو اس سوچ کے سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں جو جلد ہی بھاری بھرکم مینڈیٹ لینے والی جانسن انتظامیہ کی پالیسیوں میں پیوستہ نظر آئیں گے۔

دوسری طرف بھارتی انتخابات نے نریندر مودی کو واضح اکثریت بخشی ہے۔ جس طرح جانسن کی نفرت 11 ستمبر کے واقعے بعد پنپنا شروع ہوئی ٹھیک ویسے ہی وزیرِاعظم مودی نے بار بار ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے مسلمانوں کو بلی کا بکرا بنایا ہے۔

شروع سے لے کر اب تک ان کے دورِ اقتدار کا جائزہ لینے پر ایسا لگتا ہے جیسے بھارت کے سارے لوگ مسلمانوں کو نازی نما شدید جذبات اپناتے ہوئے کھدیڑنے اور مٹانے کے درپے ہیں۔

ممبئی حملوں کے بعد جنم لینے والی مسلمانوں کو نکالنے کی خواہش اب اس قدر بدترین شکل اختیار کرچکی ہے کہ آسام میں رہائش پذیر سیکڑوں ہزاروں مسلمانوں کی شہریت ختم کردی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب رہنے والے ان غریبوں کو اب بھارتی حکومت کے سامنے دستاویزی ’ثبوت‘ پیش کرنا ہوگا کہ وہ یا ان کے اجداد اسی زمین پر پیدا ہوئے تھے، لیکن ان میں سے اکثر لوگوں کے پاس ایسی دستاویزات موجود ہی نہیں ہیں۔

بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ مودی حکومت نے اس قانون کو منظوری دینے کے ساتھ ہی ایک ایسا قانون متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے بھارتی سرحدوں سے ملحقہ ملکوں کے غیر مسلم شہریوں کے لیے بھارت میں پناہ لینا کافی آسان ہوجائے گا۔

ایک ایسا ’ہندو‘ ملک جہاں 25 کروڑ سے زائد مسلمان رہتے ہیں، وہ مودی کی زیرِ قیادت اپنے مسلمان باشندوں کو تنہا اور رسوا کرنے کے لیے ہر قانونی، سماجی، عسکری اور سیاسی طریقہ کار استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔

دنیا میں تبدیلی لانے والا تیسرا الیکشن اگلے سال نومبر میں ہوگا۔ نومبر 2020ء کے پہلے منگل کو امریکی حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ ٹرمپ کو مزید 4 برسوں کے لیے صدارت کے منصب پر دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ کا اسلاموفوبیا، مسلمانوں کو بار بار ’مسائل‘ کی وجہ بتانا، اپنی ریلیوں میں مسلمانوں کو بُرا پیش کرنا، اور پھر ان کی انتظامیہ کی جانب سے زیادہ تر مسلمان ملکوں کے باشندوں پر سفری پابندیاں، امریکی صدر کی سوچ اور خیالات کا آئینہ دار ہیں۔

اگر ٹرمپ اگلی مدت کے لیے چن لیے جاتے ہیں تو وہ ری الیکشن کی فکروں سے آزاد ہوکر امریکی مسلمانوں پر مزید سخت کریک ڈاؤن کرسکتے ہیں۔ وہ ’ڈی نیچرلائزیشن‘ ٹاکس فورسز پہلے قائم کرچکے ہیں تاکہ ہر اس شخص کے خلاف تحقیقات کی جائے جس نے انتظامیہ کے نزدیک ممکنہ طور پر اپنی شہریت کے لیے درخواست دیتے وقت جھوٹ بولا ہوگا۔ ٹرمپ کو دوسری مدت مل گئی تو یقیناً اس قسم کے مزید سخت گیر اقدامات متعارف کروائے جائیں جن سے امریکی مسلمانوں کا مزید استحصال ہو۔

دنیا کے مختلف حصوں میں منعقد ہونے والے یہ 3 انتخابات اور مسلمانوں سے نفرت کی تاریخ رکھنے والے سخت گیر سیاستدانوں کی انتخابی کامیابی اور دوسری بار ممکنہ کامیابی ہر ایک کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے۔

اگر تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو ان ممالک میں جتنے مسلمان دہشتگرد کارروائیوں میں پکڑے گئے ہیں وہ اتنے قلیل ہیں کہ انہیں انگلیوں پر بھی گنا جاسکتا ہے، لیکن اس کے نتائج لاس اینجلس سے دہلی تک پھیلے کروڑوں مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان مسلمانوں کے بچے جہاں پیدا ہوئے اور پوری دنیا میں جس ایک ملک کو اپنا گھر پکارا ان سے وہیں اسی سرزمین پر ناگوار اور امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔

حالات کی بہتری کی امید صرف اسی وقت رکھی جاسکتی ہے جب ان انتخابی معرکوں میں مسلمانوں سے نفرت کا نعرہ گھس پٹ جائے گا اور خوفزدہ آبادی کو یکجا کرنے کے لیے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔

اس مرتبہ انتخابات کے نتائج بھلے ہی اپنے ساتھ نہایت بُری خبریں لائے ہوں (امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کیسی خبر لاتا ہے یہ کچھ ہی عرصے میں پتا چل جائے گا) لیکن اگر اس مرتبہ اسلاموفوبیا کی فضا قائم کرنے اور ہر چیز کا الزام مسلمانوں پر دھرنے سے مدد ملی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگلی بار بھی ان ہتھکنڈوں سے ووٹروں کی توجہ حاصل کرلی جائے گی۔

بلاشبہ ان تینوں ملکوں کے مسلمان باشندوں کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے، اور اچھے دنوں کے لیے 4 سے 5 برس کا انتظار بہت ہی کٹھن ثابت ہوسکتا ہے۔


یہ مضمون 18 دسمبر 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔